نکاح

ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
91908
| تاریخ :
2026-02-09
معاملات / احکام نکاح / نکاح

ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کا حکم

میری عمر ۳۱ سال ہے اور میں یوکے میں رہنتی ہوں یہاں مجھے ایک لڑکا پسند ہے جو عادت اور اخلاق کے لحاظ سے بہترین ہے اور اسکو دین اسلام میں دلچسپی تھی اور مجھ سے نکاح کرنے کے لئے وہ مسلمان ہو گیا، لیکن میری فیملی کو اس کے برٹش ہونے پے اعتراض ہے کہ لوگ کیا کہیں گے اور مجھے کہتے ہیں کسی پاکستانی سے ہی کر سکتی ہو ورنہ ہم اجازت نہیں دیں گے اور ولی کی اجازت کے بغیر تمہارا نکاح جائز نہیں ہو گا یا تو ہماری مرضی سے کرو یا کوئی پاکستانی ڈھونڈو ورنہ بیٹھی رہو کیوں کے اگر اپنی پسند سے ہماری مرضی کے بغیر کرو گی تو ناجائز ہو گا تو علماء کرام سے درخواست ہے میری اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں کے جب والدین صرف ذات پات رنگ نسل کے فرق کو بنیاد بنا کر آپکی پسند کو ٹھکرائیں اور آپ کے پاس کوئی راستہ نہ چھوڑیں تو ایسی صورت میں کیا میں خود نکاح کر سکتی ہوں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

نکاح کرتے وقت شریعت مطہرہ میں اگرچہ لڑکی کی پسند کو اہمیت دی گئی ہے، اور والدین کو بھی اس کا خیال رکھنا چاہیے، تاکہ نکاح کے بعد میاں بیوی ذہنی ہم آہنگی ہونے کی وجہ سے سکون کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں، لیکن اس سلسلہ میں شریعت مطہرہ نے اولاد پر والدین کی اجازت ورضامندی اور ان کے تجربہ کو ملحوظ رکھنے کی بھی تاکید کی ہے، حتی کے بعض روایات مبارکہ میں ولی کی اجازت کے بغیر کئے گئے نکاح کو باطل قرار دیا ہے، نیز والدین کی اجازت کے بغیر کیا ہوا نکاح ان کی دعاؤں سے خالی ہونے کی وجہ سے عموما پائیدار بھی نہیں ہوتا، بلکہ خلع و علیحدگی پر منتج ہوتا ہے، اس لیئے سائلہ کو چاہیےکہ اس سلسلہ میں جذبات سے کام لینے کے بجائے اپنی پسند کے ساتھ ساتھ والدین کی رضامندی کا بھی خیال رکھے، اور انہیں اعتماد میں لینے کی کوشش کرے، اور سائلہ کے والدین کو بھی چاہیےکہ مذکور لڑکا اگر واقعۃ دیندار قابل اعتماد اور رشتوں کا مان رکھنے والا ہو تو اسے محض نومسلم برٹش ہونے کی وجہ سے نظر انداز نہ کرے، بلکہ اپنی بچی کی مستقبل کے ساتھ ساتھ ان کی خواہش اور رضامندی کا بھی احساس کرے، تاکہ وہ غلط اقدام اٹھانے پر مجبور نہ ہوں،

مأخَذُ الفَتوی

کما فی جامع الترمذی: عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنه عنی النبیﷺ قال رضا الرب فی رضا الوالد وسخط الرب فی سخط الوالد. ( باب ما جاء من الفضل فی رضا الوالدین، ج: 6، ص: 22، ط: دارالکتب العلمیہ )
وفی الدر المختار:(و لاتجبر البالغة البکر علی النکاح) لانقطاع الولایة بالبلوغ (فإن استأذنها هو) أي الولي و هو السنة الخ ( باب الولی، ج: 3، ص: 57، ط: سعید )
و فی رد المحتار : ( فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا (وله) أي للولي (إذا كان عصبة ) الی قولہ( الاعتراض في غير الكفء) فيفسخه القاضي ويتجدد بتجدد النكاح (ما لم) يسكت حتى (تلد منه) لئلا يضيع الولد وينبغي إلحاق الحبل الظاهر به." الخ ( كتاب النكاح ، باب الولي ، ج : 3 ، ص : 56 ، ط : سعید )
کما فی الدر المختار: ( الکفاءۃ معتبرۃ ) فی ابتداء النکاح للزومہ او لصحتہ ( من جانبہ )
وفی رد المحتار تحت قولہ ( الکفاءۃ معتبرۃ ) قالو معناہ معتبرۃ فی اللزوم علی الاولیاء حتی ان عند عدمھا جاز للولی الفسخ اھ فتح و ھذا بناء علی ظاھر الروایۃ من ان العقد صحیح ، و للولی الاعتراض ، اما علی روایۃ الحسن المختار للفتوی من انہ لا یصح ( باب الکفاءۃ، ج: 3، ص: 74، ط: سعید )
و فی الدر المختار: ( ویفتی ) فی غیر الکفء ( بعدم جوازہ اصلا) و ھو المختار للفتوی ( باب الکفاءۃ، ج: 3، ص: 74، ط: سعید )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شیراز نور غنی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91908کی تصدیق کریں
0     127
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات