مصارف زکوۃ و صدقات

چچا کو زکوۃ دینے کا حکم

فتوی نمبر :
91924
| تاریخ :
2026-02-09
عبادات / زکوۃ و صدقات / مصارف زکوۃ و صدقات

چچا کو زکوۃ دینے کا حکم

15-20 سال پہلے میرے چچا نے بینک سے ایک رکشہ قسطوں پر لیا تھا اور کچھ وقت کے بعد اس کو بیچ دیا اس شرط پر کہ دوسرا بندا بقایا رقم کی قسطیں بینک کو ادا کرے گا پر اس نے نہیں کی اب وہ بینک کا قرضہ میرے اوپر ہے چچا کے پاس اور نہ میرے پاس اتنے پیسے اکٹھے ہیں کہ وہ قرض ادا ہو البتہ میری بیگم اپنی زکوٰۃ نکالتی ہیں کیا اس زکوٰۃ کی رقم سے وہ قرض ادا کر سکتے ہیں خود سے یا وہ رقم چچا کو دے کر قرض ادا کروائیں ، برائے مہربانی اصلاح کریں

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کا چاچااگر مستحق زکوٰۃ ہو،یعنی اس کی ملکیت میں قرض کی رقم منہا کرنے کے بعد ساڑھےسات تولہ یا ساڑھے باون تولہ چاندی ، یا اس کی مالیت کے بقدر مال تجارت نقدی اور حاجات اصلیہ سے زائد کوئی چیز نہ ہو ، اور وہ سید بھی نہ ہو تو سائل کی بیگم مذکور قرض کی ادائیگی کے لئے اسے زکوۃ دے سکتی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في الفتاوى الهندية: فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى-(کتاب الزکوٰۃ،ج:1،ص:170،ناشر:ماجدیہ)
وفي حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: قوله: "وأصل المزكي وفرعه" لأن الواجب عليه الإخراج عن ملكه رقبة ومنفعة ولم يوجد في الأصول والفروع والإخراج عن ملكه منفعة وإن وجد رقبة وهذا الحكم لا يخص الزكاة بل كل صدقة واجبة كالكفارات وصدقة الفطر والنذور لا يجوز دفعها إليهم ومن سوى ما ذكر يجوز الدفع إليهم كالأخوة والأخوات والأعمام والعمات والأخوال والخالات الفقراء بل هم أولى لما فيه من الصلة مع الصدقة ثم بعدهم الأقارب ثم الجيران بحر اھ (ص: 721)
وفی تنویر الابصار مع الدرالمختار:(ومديون لا يملك نصابا فاضلا عن دينه) وفي الظهيرية: الدفع للمديون أولى منه للفقير.(باب مصرف الزکاۃ والعشر،ج:2،ص:343،ناشر:سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رمضان عبدالعلی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91924کی تصدیق کریں
0     167
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات