کیا ساس اور سسر کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں؟
ساس ،سسر کے پاس اگر بقدر نصاب یعنی ساڑھے سات تولہ سونا،یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کی مالیت کے بقدر نقدی، مالِ تجارت یا ضرورتِ اصلیہ سے زائد سامان موجود نہ ہو، اور وہ سید بھی نہ ہو ں تو ایسی صورت میں ساس و سسرکو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے ، اور اس سے زکوۃبھی بلاشبہ درست ادا ہو جائے گی ۔
کما فی الشامیة: قید بالولاد لجوازہ لبقیة الأقارب کالإخوة والأعمام والأخوال الفقراء بل ھو أولی لأنه صلة وصدقة. (باب المصرف الزکاۃ و العشر ، ج:۲، ص: 346 ، دار الفكر - بيروت)
وفي الدر المختار : أي مصرف الزكاة ( إلى قوله ) (هو الفقير وهو من له ادنی شيئ أى دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة الخ ( باب المصرف، ج 2 ، ص339، مط: سعيد) ۔
وفي الهندية، ولا يجوز دفع الزكاة الى من یملك نصاباً أي مال كان دنانیر اودراهم أو سوائم او عروضاً للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهد اھ (کتاب الزکاۃ ، ج: 1، ص: 189، مط: ماجدية )۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0