میری شادی کو 20 سال ہو چکے ہیں۔ شادی کے آغاز سے ہی ہمارے درمیان غلط فہمیاں رہی ہیں۔ میں اس رشتے میں خود کو مکمل طور پر غیر اہم اور ناقدری کا شکار محسوس کرتی ہوں۔ ہمیں مالی مسائل کا بھی سامنا رہا جس میں میرے والدین نے مدد کی۔ میں اپنے خاندان کی کفالت کے لیے ملازمت کرتی ہوں۔ اس نے کبھی اپنے کیریئر کو بنانے کی پرواہ نہیں کی۔ اس کی تمام تر دلچسپی صرف اپنے والدین اور بہن بھائیوں کی ضروریات کا خیال رکھنے میں ہے۔ اسے میری جذباتی، ذہنی اور مالی ضروریات کی کوئی فکر نہیں۔ وہ ان تمام وسائل کو استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے جو میں فراہم کر سکتی ہوں۔ جب اسے اس کی ضرورت کی چیز نہیں ملتی تو وہ بہت برا سلوک کرتا ہے۔میں نے اپنے بچوں کی خاطر اس کے تمام برے رویوں، جسمانی اور ذہنی تشدد کو برداشت کیا۔ میرا یہ بھی ماننا تھا کہ ایک دن وہ میری قدر کرے گا، لیکن اب میں جانتی ہوں کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ وہ کبھی مطمئن نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے میرے ساتھ اپنے برے رویے پر کوئی پچھتاوا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ سب کے لیے ایک اچھا انسان ہے اور میں ہی اسے غصہ دلاتی ہوں اور ایسی حرکتیں کرتی ہوں۔ میرے دل میں اس کے لیے محبت اور عزت ختم ہو چکی ہے۔ میں کوشش کرتی ہوں کہ اس کی لڑائی جھگڑے کی چالوں میں نہ آؤں اور تنازع سے بچنے کے لیے تھوڑا فاصلہ رکھوں۔ لیکن کبھی کبھی جب وہ مجھے اپنی مرضی کے مطابق نہیں چلا پاتا، تو وہ اس لڑائی کا رخ بچوں کی طرف موڑ دیتا ہے اور انہیں تکلیف پہنچاتا ہے۔میں اب کیا کروں؟ میں اس کی موجودگی سے بہت زیادہ بے چینی اور تناؤ محسوس کرتی ہوں اور ہمیشہ اس خوف میں رہتی ہوں کہ گھر میں کہیں کوئی جھگڑا یا چیخ و پکار شروع نہ ہو جائے۔ اس سے بچنے کے لیے میں نے ذہنی طور پر دوری اختیار کر لی ہے اور شاید یہ سامنے بھی ظاہر ہوتا ہے، کیونکہ میں ہر وقت خود کو چھپا نہیں سکتی۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ اب کیا کروں! کیونکہ اب میں اسے مزید برداشت نہیں کر سکتی۔ میں نے حال ہی تک اپنی پوری کوشش کی، لیکن اب میں نے کوشش کرنا چھوڑ دی ہے۔
واضح ہوکہ بیوی اپنی کمائی شوہر پر خرچ کرنے کی شرعاً پابند نہیں، بلکہ بیوی کا نفقہ خود شوہر کے ذمہ لازم ہے ،صورتِ مسئولہ میں سائلہ کابیان اگرحقیقت پرمبنی ہوکہ اس کا شوہر بیوی کے نان و نفقہ اور دیگر شرعی حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی اورغفلت کامرتکب ہورہاہو،اس کےساتھ حسنِ معاشرت کابرتاؤاختیارکرنے کے بجائے مسلسل ذہنی یا جسمانی اذیت میں مبتلارکھتاہو، تواس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہو رہا ہے، لہذا اس پرلازم ہے کہ وہ اپنے مذکوررویہ پر نظرثانی کرےاوربیوی بچوں کے ساتھ نرمی،پیارومحبت کاطرزعمل اختیارکرتے ہوئےان کے حقوق واجبہ کی ادائیگی کی فکرکرے۔
جبکہ سائلہ کےلیے اگراس کے ساتھ رہنا ناقابلِ برداشت ہو چکاہو اور اندیشہ ہو کہ وہ حدودِ شرعیہ قائم نہ رکھ سکے گی، تو ایسی صورت میں خاندان کےبااعتماد بزرگوں کے ذریعےاصلاح اورصلح کی سنجیدہ کوشش کی جائے، لیکن اگر اصلاح کی کوئی بھی صورت کار آمد نہ رہے توشرعی طریقے سے طلاق یاخلع کے زریعےعلیحدگی اختیار کرنےکی بھی گنجائش ہے، اس صورت میں سائلہ گناہ گار بھی نہ ہوگی۔
کما فی سنن الترمذي : عن ثوبانؓ أن رسول الله ﷺ قال أيما امرأة سألت زوجها طلاقا من غير بأس فحرام عليها رائحة الجنة۔الحدیث. (أبواب الطلاق واللعان، باب ماجاء في مداراة النساء، ج: 3، ص: 48، الرقم: 1224، ط: دار الرسالة العالمية)
وفي الدر المختار: (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة بحر (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس، وكل محبوس لمنفعة غيره يلزمه نفقته.اهـ (باب النفقة، ج: 3، ص: 572، ط: إيج إيم سعيد)
وفي بدائع الصنائع: ومنها المعاشرة بالمعروف، وأنه مندوب إليه، ومستحب قال الله تعالى: {وعاشروهن بالمعروف} [النساء: 19] قيل هي المعاشرة بالفضل والإحسان قولا وفعلا وخلقا قال النبي: صلى الله عليه وسلم «خيركم خيركم لأهله، وأنا خيركم لأهلي» ، وقيل المعاشرة بالمعروف هي أن يعاملها بما لو فعل بك مثل ذلك لم تنكره بل تعرفه، وتقبله وترضى به، وكذلك من جانبها هي مندوبة إلى المعاشرة الجميلة مع زوجها بالإحسان باللسان، واللطف في الكلام، والقول المعروف الذي يطيب به نفس الزوج، وقيل في، قوله تعالى {ولهن مثل الذي عليهن بالمعروف} [البقرة: 228] أن الذي عليهن من حيث الفضل والإحسان هو أن يحسن إلى أزواجهن بالبر باللسان، والقول بالمعروف، والله عز وجل أعلم.اهـ (كتاب النكاح، فصل المعاشرة بالمعروف، ج: 2، ص: 234، ط: إيج إيم سعيد)
و فی الدر المختار : (و لا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق إلخ
و فی رد المحتار تحت: (قوله للشقاق) أي لوجود الشقاق و هو الاختلاف و التخاصم . و في القهستاني عن شرح الطحاوي السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما ، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق و الخلع.اهـ (باب الخلع، ج: 3، ص: 441، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الدر المختار أيضا: (وكره) تحريما (أخذ شيء) ويلحق به الإبراء عما لها عليه (إن نشز إلخ. (باب الخلع، ج: 3، ص: 445)
وفي أحكام القرآن للطحاوي: تأويل قوله تعالى: {وإن خفتم شقاق بينهما} الآية قال الله عز وجل: {وإن خفتم شقاق بينهما فابعثوا حكما من أهله وحكما من أهلها إن يريدا إصلاحا يوفق الله بينهما} فهذا عندنا، والله أعلم، في الزوجين البالغين الصحيحين إذا اشتبهت حالاهما، وتباعد ما بينهما، وادعى كل واحد منهما على صاحبه منعه من الحق الواجب له، ولم يقف الإمام على الظالم منهما بعينه فيمنعه من ظلمه، ويأخذه بالرجوع إلى الحق، فيبعث في ذلك حكمين، أحدهما من أهل الزوج، والآخر من أهل المرأة، حتى يتفقا على ذلك، ويكشفا الحال فيه فإذا وقفا على حقيقة الأمر فيه رد الظالم منهما إلى الحق الواجب عليه في المعنى الذي بعثا من أجله فإن رجع إلى ذلك وإلا كانا شاهدين عليه بما قد وقفا عليه، فيؤديان ذلك إلى الإمام على سبيل الشهادة، فيأخذ الإمام المشهود عليه من الزوجين بما ثبت عنده عليه، ويقضي بذلك، ويرده إلى الواجب فيه وقد اختلف أهل العلم، هل لهما أن يفرقا بما قد جعل إليهما حتى تكون المرأة بائنا من زوجها، ويكون زوجها في معنى المطلق؟ فقالت طائفة: ليس ذلك إليهما إلا أن يكون الزوجان قد جعلاه إليهما فيكون ذلك، ومن الاجتعال للزوج على الزوجة فيه وممن قال ذلك الشافعي، وهو قياس قول أبي حنيفة، وأبي يوسف، ومحمد.اهـ (كتاب الطلاق، ج: 2، ص: 442، ط: مركز البحوث الإسلامية التابع لوقف الديانة التركي ، استانبول)
وفي معرفة السنن والآثار: وذلك أن الله تعالى أذن في نشوز المرأة بالعظة والهجرة والضرب ولنشوز الرجل بالصلح، فإذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به.اهـ (باب الحكمين في الشقاق بين الزوجين، ج: 10، ص: 292، الرقم: 14558، ط: جامعة الدراسات الإسلامية (كراتشي - باكستان)، دار قتيبة (دمشق -بيروت)