بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب!
میرا نام شبیّر ہے۔ میں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہوں اور میری دو بہنیں ہیں۔
میری والدہ اور میرے چچا کی اہلیہ آپس میں سگی بہنیں ہیں۔ میرے چچا کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔
صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ میری والدہ نے میرے ایک چچا زاد (بیٹے) کو بچپن میں دودھ پلایا تھا۔ واضح رہے کہ صرف اسی ایک چچا زاد نے میری والدہ کا دودھ پیا ہے۔ نہ تو ہم بہن بھائیوں میں سے کسی نے ان کی والدہ کا دودھ پیا ہے، اور نہ ہی میرے چچا کے باقی بیٹوں یا بیٹی نے میری والدہ کا دودھ پیا ہے۔
اب درج ذیل امور کے متعلق شرعی رہنمائی مطلوب ہے:
کیا میری بہنوں کا میرے چچا کے باقی بیٹوں کے ساتھ نکاح جائز ہے یا نہیں؟
کیا میرا نکاح میرے چچا کی بیٹی کے ساتھ جائز ہے یا نہیں؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔
سائل کے جس چچا زاد نے سائل کی والدہ کا دودھ پیا ہے، اس کے ساتھ تو سائل کی کسی بھی بہن کا نکاح جائز نہیں، اس کے علاوہ سائل کے باقی چچازاد بھائیوں کے لیئے سائل کی بہنوں کے ساتھ، یا سائل کے لیئے اپنی چچازاد بہنوں کیساتھ نکاح کرنا شرعا جائز اور درست ہے۔
کما فی الدر المختار: (وتحل أخت أخيه رضاعا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما وهو ظاهر اھ ( باب الرضاع، ج: 3، ص: 217، ط: سعید )
وفی الھندیہ: وتحل أخت أخيه رضاعا كما تحل نسبا مثل الأخ لأب إذا كانت له أخت من أمه يحل لأخيه من أبيه أن يتزوجها كذا في الكافي (کتاب الرضاع، ج: 1، ص: 343، ط: ماجدیہ )