نکاح

نکاح میں ایجاب کیلئے "نکاح طے کیا "کا جملہ استعمال کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
92063
| تاریخ :
2026-02-12
معاملات / احکام نکاح / نکاح

نکاح میں ایجاب کیلئے "نکاح طے کیا "کا جملہ استعمال کرنے کا حکم

السلام علیکم ! میرےنکاح میں لڑکی کے والد، جو اس وقت اس کے وکیل تھے، نے مجھ سے کہا:"میں نے آپ کا نکاح اپنی بیٹی سے طے کیا ہے، اپنی طرف قبول ہے؟"اور میں نے جواب میں کہا: "قبول ہے" اردو میں عام طور پر ایجاب کے لیے "نکاح کیا" جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں ، یہاں انہوں نے کہا "نکاح طے کیا"کیا ان دونوں میں کوئی فرق ہے؟"طے کرنا" کے مختلف معنی ہوتے ہیں جو استعمال ہونے والے اسم کے اعتبار سے بدلتے ہیں، مثلاً "فیصلہ کرنا / منظور کرنا" اور "مکمل کرنا / انجام دینا"میں سمجھتا ہوں کہ نکاح میں ایجاب کا جملہ انشائیہ ہونا ضروری ہے، یعنی وہ جملہ جس سے نکاح کا عمل نافذ ہو، ایسا جملہ جو صرف اطلاع دے (یعنی "اخباری") ہو، وہ ایجاب کے لیے کافی نہیں ہوتا، کیا وکیل کی کہی ہوئی یہ عبارت ("نکاح طے کیا") اردو کے عرف میں انشائیہ ایجاب ہے؟اگر سیاق و سباق کی اہمیت ہے، یہ نکاح کی مجلس میں کہی گئی، اور نکاح خواں اور گواہ موجود تھے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ نکاحِ صحیح کے انعقاد کے لیے ایجاب و قبول کا ایسا صیغہ استعمال کرناضروری ہے جو عرفاً عقد کے انشاء پر دلالت کرے، خواہ وہ صریح الفاظ ہوں یا قرائنِ حال کے ساتھ انشائی معنی پر محمول ہوں۔لہٰذا اگر مجلسِ نکاح میں گواہوں کی موجودگی میں لڑکی کے وکیل نے یہ کہا"میں نے آپ کا نکاح اپنی بیٹی سے طے کیا ہے، کیا آپ کو قبول ہے؟" اور سائل نے اس کے جواب میں "قبول ہے"کہا، تو لفظ "طے کیا" اگرچہ اپنے اصل میں مختلف معانی رکھتا ہے، تاہم نکاح کی مجلس، ایجاب کے فوراً بعد قبول طلب کرنا، اور مجموعی سیاق و سباق اس بات کا واضح قرینہ ہیں کہ یہاں محض خبر دینامقصودنہیں، بلکہ اس سے ایجابِ نکاح کا انشاء مراد ہے،اس لیے صورت مسئولہ میں ایجاب و قبول صحیح طور پر واقع ہوگیاہے، چنانچہ اگر دیگر شرائطِ نکاح موجودہوں تومذکور نکاح شرعاً درست منعقد ہوچکا ہے،بلاوجہ شک وشبہ میں پڑنے سے احترازچاہیے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدرالمختار: (وإنما يصح بلفظ تزويج ونكاح) لأنهما صريح (وما) عداهما كناية هو كل لفظ (وضع لتمليك عين)الخ (کتاب النکاح،ج: 3،ص:16،ناشر:سعید)
وفی بدائع الصنائع: والأصل عندهم: أن النكاح لا ينعقد إلا بلفظ موضوع لتمليك العين، هكذا روى ابن رستم عن محمد أنه قال: كل لفظ يكون في اللغة تمليكا للرقبة فهو في الحرة نكاح اھ (فصل رکن النکاح ، 2: ص؛230،ناشر : دارالکتب العلمیۃ)
وفی الھندیۃ: (وما ينعقد به النكاح فهو نوعان) صريح وكناية فالصريح لفظ النكاح والتزويج، وما عداهما وهو ما يفيد ملك العين في الحال كنايةاھ(کتاب النکاح،ج:1،ص :270 ، ناشر:بیروت)
وفی الھندیۃ:ينعقد بالإيجاب والقبول وضعا للمضي أو وضع أحدهما للمضي والآخر لغيره مستقبلا كان كالأمر أو حالا كالمضارع، كذا في النهر الفائق اھ (ج:1،ص: 270، )
وفی بدائع الصنائع: وأما بيان صيغة اللفظ الذي ينعقد به النكاح فنقول: لا خلاف في أن النكاح ينعقد بلفظين يعبر بهما عن الماضي كقوله: زوجت وتزوجت وما يجري مجراه.
وأما بلفظين يعبر بأحدهما عن الماضي وبالآخر عن المستقبل الخ(فصل رکن النکاح،ج:2، ص:231، ناشر:دارالکتب العلمیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رمضان عبدالعلی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92063کی تصدیق کریں
0     44
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات