میری شادی 23 مارچ کو ہے۔ میری منگیتر چاہتی ہے کہ نکاح جمعہ کو ہو لیکن میرے ابو کی چھٹی نہیں ہوتی، تو کیا ہم پیر کو نکاح کر سکتے ہیں یا جمعہ کو کرنا ضروری ہے؟
واضح ہو کہ نکاح کے لئے شریعت مطہرہ میں کوئی خاص مہینہ اور کوئی خاص دن مقرر نہیں ہے ،بلکہ اپنی سہولت کے مطابق کوئی بھی دن نکاح کے لئے طے کیا جا سکتا ہے البتہ جمعہ کے دن نکاح کرنا بہتر اور مستحب ہے ،لہذا سائل اور اس کے سسرال والوں کو چاہئےکہ اپنی سہولت کےمطابق نکاح کے لئے کوئی ایسا دن مقرر کریں جس میں فریقین سہولت کے ساتھ شرکت کر سکتے ہوں۔
وفی حاشیۃ ابن العابدین :ويندب إعلانه وتقديم خطبة وكونه في مسجد يوم جمعة بعاقد رشيد وشهود عدول،(ج: 3 ص : 8 کتاب النکاح ناشر : سعید)