نکاح

جمعہ کے بجائے پیر کو نکاح کرنا

فتوی نمبر :
92097
| تاریخ :
2026-02-13
معاملات / احکام نکاح / نکاح

جمعہ کے بجائے پیر کو نکاح کرنا

میری شادی 23 مارچ کو ہے۔ میری منگیتر چاہتی ہے کہ نکاح جمعہ کو ہو لیکن میرے ابو کی چھٹی نہیں ہوتی، تو کیا ہم پیر کو نکاح کر سکتے ہیں یا جمعہ کو کرنا ضروری ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نکاح کے لئے شریعت مطہرہ میں کوئی خاص مہینہ اور کوئی خاص دن مقرر نہیں ہے ،بلکہ اپنی سہولت کے مطابق کوئی بھی دن نکاح کے لئے طے کیا جا سکتا ہے البتہ جمعہ کے دن نکاح کرنا بہتر اور مستحب ہے ،لہذا سائل اور اس کے سسرال والوں کو چاہئےکہ اپنی سہولت کےمطابق نکاح کے لئے کوئی ایسا دن مقرر کریں جس میں فریقین سہولت کے ساتھ شرکت کر سکتے ہوں۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی حاشیۃ ابن العابدین :‌ويندب ‌إعلانه وتقديم خطبة وكونه في مسجد يوم جمعة بعاقد رشيد وشهود عدول،(ج: 3 ص : 8 کتاب النکاح ناشر : سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد زکریا الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92097کی تصدیق کریں
0     77
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات