نکاح

بھائی کے نکاح کرانے کے بعد ماموں کا کسی دوسری جگہ لڑکی کا نکاح کرانا

فتوی نمبر :
92111
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام نکاح / نکاح

بھائی کے نکاح کرانے کے بعد ماموں کا کسی دوسری جگہ لڑکی کا نکاح کرانا

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسلمان لڑکی کا نکاح مسلمان لڑکے کے ساتھ چار گواہوں اور نکاح خواہ کی موجودگی میں فون پر پڑھایا گیا، ایجاب و قبول بھی ہوا اور حق مہر بھی مقرر ہوا، اب لڑکی کا ماموں کسی دوسرے لڑکے کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہے، وہ اس نکاح کو نہیں مانتا، آیا فون پر نکاح ہو سکتا ہے ؟ اور اس لڑکی کا کسی دوسرے کے ساتھ نکاح کیا جاسکتا ہے ؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔ جزاکم اللہ خیر !!
نوٹ : سائل سے مزید استفسار پر معلوم ہوا کہ چاروں گواہ اور نکاح خواہ خوشاب میں موجود تھے ، اور لڑکی کی طرف سے وکیل اس کا بھائی تھا، وہ بھی خوشاب میں مجلس عقد میں موجود تھا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

نوٹ میں درج کردہ وضاحت کے مطابق جب مجلس عقد میں لڑکی کا بھائی لڑکی کی طرف سے بطور وکیل موجود تھا اور لڑکی کی طرف سے ایجاب و قبول میں شریک رہا تو ایسی صورت میں یہ نکاح شرعا منعقد ہو چکا ہے، جس کے بعد مذکور لڑکی اپنے شوہر کی منکوحہ شمار ہوگی، لہذا لڑکی کے ماموں کا طلاق یا خلع سے قبل مذکور لڑکی کا کسی اور جگہ نکاح کرانے پر اصرار کر ناشر عا نا جائز اور حرام ہے، جس سے اسے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) على الأصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب بحر (مسلمين لنكاح مسلمة ولو فاسقين أو محدودين في قذف أو أعميين أو ابني الزوجين أو ابني أحدهما، وإن لم يثبت النكاح بهما) اھ (3/ 21، تا 24)
و في الدر المختار: وشرائط التحمل ثلاثة (العقل الكامل) وقت التحمل، والبصر، ومعاينة المشهود به إلا فيما يثبت بالتسامع اھ (5/ 462) والله اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92111کی تصدیق کریں
0     21
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات