میں اپنے بھائی کے ساتھ اپنے ذاتی گھر میں الگ الگ حصوں میں رہتا ہوں۔ کیا مجھے اپنی زکوٰۃ سے اپنے بھائی کی بیوی اور بچوں کی مدد کرنی چاہیے؟ کیونکہ وہ ایک پرائیویٹ نوکری میں ماہانہ پچاس ہزار کماتا ہے جو گھر چلانے کے لیے کافی نہیں ہے۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ وہ گھریلو معاملات میں بہت لاپرواہ ہے اور بیوی بچوں کی کفالت کو ترجیح نہیں دیتا۔ میں نے کئی مرتبہ اس سے پوچھا کہ وہ اپنی تنخواہ کہاں خرچ کرتا ہے، لیکن وہ مجھے تسلی بخش جواب نہیں دیتا۔
صورت مسؤلہ میں اگر سائل کی بھابھی اور بھتیجے مستحق زکوٰۃ ہوں، تو انہیں زکوٰۃ دینا شرعا نہ صرف جائز و درست بلکہ صلہ رحمی کی وجہ سے زیادہ باعث اجر و ثواب ہے۔
کما فی الھندیہ: ھی تملیک المال من فقیر مسلم غیر ھاشمی ولا مولاہ بشرط قطع المنفعۃ عن الملک من کل وجہ للہ تعالی (کتاب الزکاۃ، ج: 1، ص: 170، ط: ماجدیہ)
وفیہ ایضا: والأفضل في الزكاة والفطر والنذر الصرف أولا إلى الإخوة والأخوات ثم إلى أولادهم ثم إلى الأعمام والعمات ثم إلى أولادهم ثم إلى الأخوال والخالات ثم إلى أولادهم ثم إلى ذوي الأرحام ثم إلى الجيران ثم إلى أهل حرفته ثم إلى أهل مصره أو قريته كذا في السراج الوهاج اھ ( الباب السابع فی المصارف، ج: 1، ص: 190، ط: ماجدیہ)
وفی رد المحتار تحت قولہ ( والی من بینھما ولاد ) وقيد بالولاد لجوازه لبقية الأقارب كالإخوة والأعمام والأخوال الفقراء بل هم أولى؛ لأنه صلة وصدقة اھ ( باب مصرف الزکاۃ والعشر، ج: 2، ص: 346، ط: سعید)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0