نکاح

شرائط کے ساتھ خفیہ نکاح کرکے دوبارہ بغیر شرائط کے نکاح کرنا

فتوی نمبر :
92152
| تاریخ :
2026-02-14
معاملات / احکام نکاح / نکاح

شرائط کے ساتھ خفیہ نکاح کرکے دوبارہ بغیر شرائط کے نکاح کرنا


السلام علیکم، قاری صاحب! میرا سوال یہ ہے اور میں جس مسئلے کے لیے آپ سے درخواست کر رہا ہوں، وہ مسئلہ کچھ یوں ہے کہ میں ایک لڑکی ہے لائبہ، اس کو پسند کرتا ہوں اور اس چیز کو تقریبا چار سال ہو چکے ہیں، اور لڑکی کی فیملی کو بھی پتہ ہے، میں اس کو پسند کرتا ہوں، میں نے رشتہ بھی بھیجا ہے، لیکن معاملہ کچھ یوں ہے، معاملہ یہاں پہ آکے رک گیا ہے کہ لڑکی کے گھر والوں کی طرف سے ایک شرط کہی گئی ہے کہ آپ دو لاکھ حق مہر اور چار تولہ سونا لکھو گے تو ہم اپنی بیٹی کی شادی اپ سے کروائیں گے، اور میرے گھر والوں کا کہنا ہے کہ ہم صرف (یعنی میری امی کا کہنا ہے ابو کا بھی انتقال ہو گیا ہے کہ صرف ہم) حق مہر پہ ہی شادی کرائیں گے، شرائط جو کہی جا رہی ہیں سامنے فریقین کی طرف سے وہ ہم نہیں لکھوائیں گے، اور اس چیز کا جو لکھنے والا معاملہ ہے یہ مجھے معلوم تھا، اور میرے پسندی شادی ہے، تو میں چاہتا ہوں کہ میں لکھ دوں، تاکہ ہم شادی کر لیں یا نکاح کر لیں، لیکن جب لڑکی کے گھر والے بنا لکھے اور میرے گھر والے لکھنے پہ نہیں کروا رہے ہیں، تو کیا ایسا پوسیبل ہے کہ ہم ایسا کر لیں کہ میں لڑکی کے گھر والوں کے سامنے یا ان کے سامنے ہمارا نکاح ہو اور ہم تمام شرائط جو بول رہے ہیں، وہ لکھیں اور نکاح کر لیں اور یہ نکاح اوریجنل بھی ہو اور حتمی بھی، کیونکہ یہ مہر لڑکی کا حق ہوتا ہے اور اس کے بعد نارملی جس طرح رشتہ ہوتا ہے اس طرح رشتہ کریں اور میرے گھر والے یعنی لڑکے گھر والے جو اصف حق میں اگر ہیں اس مطابق ہم ایسے ہی نکاح کر لیں صرف ایسے ہی انکی رضامندی کیلیے اور اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو کوئی بہتر اور اس کے بعد حل بتائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں سائل کے لیے اپنی والدہ اور دیگر گھر والوں کی غیر موجودگی میں تنہا لڑکی والوں کے سامنے ان کی شرائط پر نکاح کر کے اس کے بعد اپنے گھر والوں کے سامنے رسمی طور پر بغیر اضافی شرائط کے تجدید نکاح کرنے کی اگرچہ شرعًا گنجائش ہے، تاہم شرعی طور پر پہلی دفعہ کیا گیا نکاح اپنی تمام شرائط کے ساتھ معتبر قرار پائے گا اور سائل پر اس نکاح کے موقع پر تسلیم کی گئی شرائط کی پاسداری کرنا شرعاً و قانوناً لازم و ضروری ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في القرآن الكريم: ﴿وَأَوۡفُواْ بِٱلۡعَهۡدِۖ إِنَّ ٱلۡعَهۡدَ كَانَ مَسۡـُٔولٗا﴾ [الإسراء: 34]
وفيه أيضاً: ﴿وَءَاتُواْ ٱلنِّسَآءَ صَدُقَٰتِهِنَّ نِحۡلَةٗۚ فَإِن طِبۡنَ لَكُمۡ عَن شَيۡءٖ مِّنۡهُ نَفۡسٗا فَكُلُوهُ هَنِيٓـٔٗا مَّرِيٓـٔٗا﴾ [النساء: 4]
وفی بدائع الصنائع: أن المهر ملك المرأة وحقها؛ لأنه بدل بضعها، وبضعها حقها وملكها، والدليل عليه قوله عز وجل: {وآتوا النساء صدقاتهن نحلة} [النساء: 4] أضاف المهر إليها فدل أن المهر حقها وملكها، وقوله عز وجل: {فإن طبن لكم عن شيء منه نفسا فكلوه هنيئا مريئا} [النساء: 4] وقوله تعالى: منه أي: من الصداق؛ لأنه هو المكنى السابق أباح للأزواج التناول من مهور النساء إذا طابت أنفسهن بذلك، ولذا علق سبحانه وتعالى الإباحة بطيب أنفسهن، فدل ذلك كله على أن مهرها ملكها وحقها اهـ (کتاب الطلاق ج 2 صـ290 ط: سعید)
وفي تبيين الحقائق: وشرط فيه شرط فاسد فيصح العقد، ويبطل الشرط؛ إذ ‌النكاح ‌لا ‌يبطل ‌بالشروط الفاسدة فصار كما لو تزوجها على أن يطلقها بعد شهر اهـ [كتاب النكاح، ج:2 ص:115 ط: دار الكتاب الإسلامي)]

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92152کی تصدیق کریں
1     19
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات