ایک غریب خاندان ہے جو ہمارے رشتہ دار ہیں، وہ بہت غریب ہیں، آدمی مزدوری کرتا ہے، کبھی اسے کام مل جاتا ہے اور کبھی نہیں ملتا، ان کے پاس کچھ زمین ہے، لیکن وہ مالی طور پر اتنے مضبوط نہیں ہیں کہ اس پر کاشتکاری کر سکیں یا کوئی کھیتی باڑی کر سکیں، اس صورت حال میں کیا ہم انہیں زکوٰۃ کا حصہ دے سکتے ہیں؟ رہنمائی فرمائیں
صورت مسئولہ میں اگر مذکور شخص واقعۃً مستحق زکوٰۃ ہو ، یعنی اس کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا ،یا ساڑھےباون تولہ چاندی یا اس کی مالیت بقدر مال تجارت، نقدی اور حاجات اصلیہ سے زائد سامان نہ ہو ، اور مذکور زمین ہی سے اس کی آمدنی ہوتی ہو ، لیکن اس کو کام میں لانے کےلئے اس کے پاس اسباب وغیرہ نہ ہوں تو اس کو زکوٰۃ کی رقم دی جاسکتی ہے۔
کما فی الھندیۃ: ولو كان له ضيعة تساوي ثلاثة آلاف، ولا تخرج ما يكفي له ولعياله اختلفوا فيه قال محمد بن مقاتل يجوز له أخذ الزكاة اھ (الباب السابع فی المصارف، ج: 1، ص : 189، ناشر: بیروت)
وفی البحرالرائق: والأولى أن يفسر الفقير بمن له ما دون النصاب كما في النقاية أخذا من قولهم يجوز دفع الزكاة إلى من يملك ما دون النصاب أو قدر نصاب غير تام، وهو مستغرق في الحاجة اھ (باب مصرف الزکوٰۃ، ج:2، ص: 258، ناشر: دارالکتب الاسلامی)