میں نے غصے میں اپنی بیوی کو میسج پر طلاق دے دی تھی، لیکن اس نے وہ میسج نہ سنے تھے اور نہ ہی پڑھے تھے، بلکہ ڈیلیٹ کر دئیے تھے۔ کیا اس صورت میں طلاق ہو گئی ہے؟میں نے کسی سے پوچھا تو اس نے کہا کہ طلاق نہیں ہوئی۔ اس کے بعد میں کئی بار اپنی بیوی کے ساتھ ہم بستری بھی کر چکا ہوں۔براہِ کرم میری رہنمائی کریں، میں بہت پریشان ہوں۔ اس مسئلے کا کوئی حل بتائیں۔(نوٹ) سائل سے بعد میں فون کے ذریعہ تعداد طلاق اور الفاظ ِ طلاق کے متعلق وضاحت لی گئی ۔ جس میں سائل نے مزید وضاحت میں بتایا کہ: انہوں نے تین مرتبہ اپنی بیوی کو میسج کے ذریعہ" طلاق " "طلاق"" طلاق " کے الفاظ کہے تھے۔
واضح ہوکہ طلاق واقع ہونے کے لیے بیوی کا الفاظِ طلاق سننا یا پڑھنا کوئی ضروری نہیں ، لہذا سائل نے جب تحریری طور پر یا وائس میسج کے ذریعہ واضح الفاظ میں تین طلاقیں دیدی ہیں اگرچہ بیوی نے وہ میسج نہ سنے ہوں نہ پڑھے ہوں، تب بھی اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہذا اس کے بعد ان دونوں نے لاعلمی میں جس قدر وقت ازدواجی حیثیت سے ساتھ گزارا ہے،اس پر بصدق دل توبہ و استغفار اور فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنا لازم ہے، جبکہ عورت ایام عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزادہے۔