نکاح

بچپن میں نکاح کروانے کے بعد بڑے ہوکر کسی اور سے نکاح کروانا

فتوی نمبر :
92355
| تاریخ :
2026-02-18
معاملات / احکام نکاح / نکاح

بچپن میں نکاح کروانے کے بعد بڑے ہوکر کسی اور سے نکاح کروانا

السلام علیکم سر !ہمارا نکاح بچپن میں گھر والوں نےآپس میں کروا دیا تھا ، لیکن اس وقت میں اور جس لڑکی سے میرا نکاح ہوا ، دونوں نابالغ تھے، لیکن جب ہم بلوغت کو پہنچے تو ہم دونوں نے اس نکاح کو ایکسیپٹ کر لیا، لیکن لڑکی کے گھر والوں نے لڑکی کی شادی کرنے سے انکار کر دیا اور انہوں نے لڑکی کا نکاح کسی اور جگہ پہ کر لیا لڑکی کی مرضی کے بغیر، سر! اس میں آپ رہنمائی فرما دیں کہ کیا میرا نکاح جو بچپن میں ہوا تھا ، وہ صحیح ہے یا جو دوسرا نکاح لڑکی کی مرضی کے بغیر کیا ہے ، وہ صحیح ہے، پلیز تھوڑا تفصیل سے اس کا جواب دینا
السلام علیکم
محترم آپ یہ بتائیں کہ بچپن میں آپ دونوں کا یہ نکاح کس نے کروایا تھا؟اور اب ان کے انکار کی وجہ کیا ہے؟یہ وضاحت دیدیں تو اس پر غور کے بعد جواب دیا جاسکتاہے۔
یہ نکاح لڑکی کے امی ابو نے اور میری طرف سے بھی امی ابو نے کروایا تھا باہمی رضامندی سے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں اگر واقعۃً سائل اور مذکور لڑکی کا نکاح ان کے والدین نے بچپن میں شرعی شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے یعنی گواہوں کی موجود گی میں ایجاب و قبول کے ساتھ کیا ہو تو اس صورت میں شرعاً یہ نکاح درست منعقد ہوچکا ہے جس کے بعد سائل اور مذکور لڑکی دونوں آپس میں میاں بیوی ہیں ،چنانچہ اگر سائل نے مذکور لڑکی کو زبانی یا تحریری طور پر طلاق نہ دی ہو تو اس لڑکی کے والدین کا سائل کے نکاح میں رہتے ہوئے لڑکی کا کسی دوسری جگہ نکاح کروانا نکاح پر نکاح ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں ، لہذا لڑکی کے والدین پر لازم ہے کہ وہ فی الفور نکاح ثانی کو ختم کرکے لڑکی کی رخصتی سائل کے ساتھ کرنے کا اہتمام کریں ، اور اگر لڑکی کے والدین کو سائل کے ساتھ رخصتی کرنے میں کوئی معقول تحفظات ہوں تو باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في البحر الرائق: (قوله ‌ولهما ‌خيار الفسخ بالبلوغ في غير الأب والجد بشرط القضاء) أي للصغير والصغيرة إذا بلغا وقد زوجا، أن يفسخا عقد النكاح الصادر من ولي غير أب ولا جد بشرط قضاء القاضي بالفرقة، وهذا عند أبي حنيفة ومحمد رحمه الله وقال أبو يوسف رحمه الله لا خيار لهما اعتبارا بالأب والجد ولهما: أن قرابة الأخ ناقصة والنقصان يشعر بقصور الشفقة فيتطرق الخلل إلى المقاصد والتدارك يعلم بخيار الإدراك، بخلاف ما إذا زوجها الأب والجد فإنه لا خيار لهما بعد بلوغهما؛ لأنهما كاملا الرأي وافرا الشفقة فيلزم العقد بمباشرتهما كما إذا باشراه برضاهما بعد البلوغ،(كتاب النكاح، ج:٣، ص: ١٢٨،مط: دار الكتاب الاسلامي)
و فی الہندیۃ: (وأما ركنه) فالإيجاب والقبول، كذا في الكافي والإيجاب ما يتلفظ به أولا من أي جانب كان والقبول جوابه هكذا في العناية(کتاب النکاح، باب الاول فی تفسیر النکاح،ج: ١، ص: ٢٦٧، مط: ماجدية )
وفي الدر المختار: (وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي)
وفي الهداية: قال: "النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول بلفظين يعبر بهما عن الماضي"اه(كتاب النكاح، ج: ١، ص: ١٨٥، مط: دار أحياء التراث العلمي)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اظہر امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92355کی تصدیق کریں
0     77
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات