ایک شخص تنہائی میں ہو اور عزم کرے کہ آئندہ یہ کام نہیں کروں گا، اور نکاح نہیں ہواہے اس شخص کا، صرف منگنی ہوئی ہے، اور وہ کہتاہے کہ جب بھی یہ کام کروں تو میری بیوی کو طلاق اور نکاح میں نہیں ہے بیوی، پھر وہ کام کرے تو کیا حکم ہے؟ کچھ حضرات سے معلوم کیا ہے، ان کا جواب ہے کہ کچھ واقع نہیں ہوگا، البتہ نکاح کے بعد دوبارہ کرنے(سے) طلاق واقع ہوگا؟ دل کی تسلی کیلئے پھر آپ کی طرف رجوع کیا۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور الفاظ کہنے سے تعلیق منعقد نہیں ہوئی، لہٰذا مذکور کام کرلینے سے بعد میں کئے جانے والے نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، اور نکاح کے بعدبھی مذکور کام کی وجہ سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
کما فی الدر المختار : (شرطه الملك) حقيقة ۔۔۔أو حكما، الٰی قولہ ( أو الإضافة إليه) أي الملك الحقيقي ۔۔۔ أو الحكمي كذلك (كإن) نكحت امرأة أو إن (نكحتك فأنت طالق)وكذا كل امرأة ويكفي معنى الشرط إلا في المعينة باسم أو نسب أو إشارة فلو قال: المرأة التي أتزوجها طالق تطلق بتزوجها، ولو قال هذه المرأة إلخ لا لتعريفها بالإشارة فلغا الوصف (فلغا قوله لأجنبية إن زرت زيدا فأنت طالق فنكحها فزارت) اھ۔
وفی الشامیۃ : (قوله فلغا الوصف) أي قوله أتزوجها، فصار كأنه قال هذه طالق كقوله لامرأته هذه المرأة التي تدخل الدار طالق فإنها تطلق للحال دخلت أو لا بحر، وإنما لم تطلق الأجنبية لعدم الملك وعدم الإضافة إليه لإلغاء الوصف، بخلاف امرأته اھ ۔ (باب التعلیق، ج::3، ص:344، 345،م:سعید)
وفیھا ایضاً : وتظهر الثمرة فيما لو قال للأجنبية أنت طالق في نكاحك فتزوجها لا تطلق، كما لو قال مع نكاحك، بخلاف إن تزوجتك تلويح: أي لأن الطلاق لا يكون إلا متأخرا عن النكاح اھ۔ (مطلب لو ادعی الاستثناء الخ، ج:3، ص:373، م:سعید)