نکاح

لڑکی کی والدہ کا بلاوجہ رشتہ سے منع کرنا

فتوی نمبر :
92422
| تاریخ :
2026-02-20
معاملات / احکام نکاح / نکاح

لڑکی کی والدہ کا بلاوجہ رشتہ سے منع کرنا

السلام علیکم!میں اور میری کزن بچپن سے ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور اس بات کا علم لڑکی کی والدہ کو تب سے ہے جب عمر 10 سے کچھ اوپر تھی۔تقریبا 18 یا 19 سال عمر تھی میری جب ہماری بات چیت شروع ہوئی اور اب تقریبا 6 یا 7 سال ہوگئے اس دوران ہم لوگ 2 بار رشتہ مانگ چکے ہیں مگر لڑکی کی والدہ رضامند نہیں ان کے بقول لڑکے میں کوئی برائی نہیں کماتا بھی ہے اور جو معاشرے میں برائی سمجھی جاتی ہیں وہ بھی نہیں کرتا پھر بھی رضا مند نہیں ہے اور وجہ بھی نہیں بتاتی ہے ۔۔ لڑکی کے والد حیات نہیں ہیں۔کیا ہم خود سے نکاح کرسکتے ہیں کیونکہ نکاح نہ کرنے کی صورت میں گناہ کا اندیشہ ہے اگر کرسکتے ہیں تو کیا شرائط ہونگے ، نیز اس سب میں لڑکی کی والدہ کو شریعت کیا کرنے کا حکم دیتی ہے۔ رہنمائی فرمائیں۔جزاکم اللہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسؤلہ میں مذکور لڑکی اگر عاقلہ بالغہ ہے اور لڑکا بھی اس کا کفؤ ہے، تو لڑکا اور لڑکی اگر باہمی رضامندی سے لڑکی کے والدین کی رضامندی کے بغیر گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ نکاح کرلے تو اگرچہ شرعاً یہ نکاح منعقد ہوجائیگا ، لیکن والدین کی رضامندی کے بغیر نکاح کرنا شرعاً واخلاقاً پسندیدہ نہیں بلکہ شریف گھرانوں میں انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے ،اور جس نکاح میں والدین کی رضامندی شامل نہ ہو ایسی نکاح میں خیر وبرکت بھی نہیں ہوتی ،اور عموماً اس کا نتیجہ طلاق یا خلع کی صورت میں نکلتا ہے اس لیے دونوں کو اس انتہائی قدم اٹھانے سے احتراز چاہیے ،جبکہ لڑکے کے کردار اور اخلاق میں اگر کوئی خرابی نہ ہو،اور لڑکی بھی اسے پسند کرتی ہو ،تو لڑکی کی والدہ کو بھی چاہے کہ وہ بچی کی پسند کا خیال رکھتے ہوئے اسے اس لڑکے کے عقد میں دیدے ،تاکہ یہ دونوں مستقبل میں کسی غلطی میں پڑنے سے محفوظ ہوسکے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی البدائع: الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلاً بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول، سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر، غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض،اھ(کتاب النکاح،فصل ولاية الندب والاستحباب في النكاح،ج: 2،ص: 247،مط: دار الکتب العلمیه)
و فی الدرالمختار: (فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا،اھ(كتاب النكاح،باب الولي،ج: 2،ص: 183،مط: دار الفکر)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید قدرت اللہ یار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92422کی تصدیق کریں
0     20
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات