مصارف زکوۃ و صدقات

یتیم بچی کی شادی کیلئے زکوۃ کی رقم دینا

فتوی نمبر :
92444
| تاریخ :
2026-02-21
عبادات / زکوۃ و صدقات / مصارف زکوۃ و صدقات

یتیم بچی کی شادی کیلئے زکوۃ کی رقم دینا

السلام علیکم ، میرا سوال ہے کہ کیا ہم ایک یتیم بچی کی شادی کے لئیے زکوة دے سکتے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ یتیم ہونا بذاتِ خود زکوٰۃ كے استحقاق کا سبب نہیں، بلکہ اصل معیارمستحق زکوٰۃ ہوناہے،چنانچہ صورت مسئولہ میں اگر مذکور یتیم بچی شرعاً مستحقِ زکوٰۃ ہو،یعنی اس کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے بقدر مال تجارت ، یا نقدی ياضرورت سے زائد سامان مىں سے كچھ موجود نہ ہو اور سيده بھى نہ ہو، تواسے زکوٰۃ کی رقم مالک بناکر دی جاسکتی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة.إلخ
و في رد المحتار: والحاصل أن النصاب قسمان: موجب للزكاة وهو النامي الخالي عن الدين. وغير موجب لها وهو غيره، فإن كان مستغرقا بالحاجة لمالكه أباح أخذهما وإلا حرمه وأوجب غيرهما من صدقة الفطر والأضحية ونفقة القريب المحرم كما في البحر وغيره.اهـ (باب مصرف الزكاة والعشر، ج: 2، ص: 339)
وفي فتح القدير: (قوله: والشرط أن يكون فاضلا عن الحاجة) أما إذا كان له نصاب ليس ناميا وهو مستغرق بحوائجه الأصلية فيجوز الدفع إليه. (باب من يجوز دفع الصدقة إليه ومن لا يجوز، ج: 2، ص: 215، ط: مكتبة رشيدية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قاضی محمد اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92444کی تصدیق کریں
0     31
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات