احکام نماز

مرد کا گھر کی محرم عورتوں کی امامت کروانے کا حکم

فتوی نمبر :
92451
| تاریخ :
2026-02-21
عبادات / نماز / احکام نماز

مرد کا گھر کی محرم عورتوں کی امامت کروانے کا حکم

کیا مرد گھر کی محرم عورتوں کی امامت کر سکتا ہے تراویح میں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ مردوں کے لیے فرض نمازبا جماعت مسجدمیں ادا کرنا واجب ہے ،چنانچہ گھرپرمحرم عورتوں کی معیت میں فرض نمازکی جماعت کروانے کی تواجازت نہیں ہے، البتہ اگرکوئی مرد فرض نماز مسجد میں جماعت سے پڑھ کر گھر آجائے اور گھر میں اس کے ساتھ تراویح میں اس کی محرم مثلاً ماں ، بہن، بیوی، بیٹی وغیرہ شامل ہوجائىں تو اس کی گنجائش ہے، لیکن دورانِ جماعت عورتیں مردوں کے ساتھ محاذات میں کھڑی ہونے کی بجائے پیچھے صف میں کھڑ ی ہوں گی۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (كما تكره إمامة الرجل لهن في بيت ليس معهن رجل غيره ولا محرم منه) كأخته (أو زوجته أو أمته، أما إذا كان معهن واحد ممن ذكر أو أمهن في المسجد لا) يكره بحر (ويقف الواحد) ولو صبيا، أما الواحدة فتتأخر (محاذيا) أي مساويا (ليمين إمامه) إلخ
وفي رد المحتار: (قوله أما الواحدة فتتأخر) فلو كان معه رجل أيضا يقيمه عن يمينه والمرأة خلفهما ولو رجلان يقيمهما خلفه والمرأة خلفهما بحر، وتأخر الواحدة محله إذا اقتدت برجل لا بامرأة مثلها ط عن البرجندي.اهـ (كتاب الإمامة، ج: 1، ص: 566، ط: إيج إيم سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قاضی محمد اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92451کی تصدیق کریں
0     131
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات