کیا مرد گھر کی محرم عورتوں کی امامت کر سکتا ہے تراویح میں؟
واضح ہوکہ مردوں کے لیے فرض نمازبا جماعت مسجدمیں ادا کرنا واجب ہے ،چنانچہ گھرپرمحرم عورتوں کی معیت میں فرض نمازکی جماعت کروانے کی تواجازت نہیں ہے، البتہ اگرکوئی مرد فرض نماز مسجد میں جماعت سے پڑھ کر گھر آجائے اور گھر میں اس کے ساتھ تراویح میں اس کی محرم مثلاً ماں ، بہن، بیوی، بیٹی وغیرہ شامل ہوجائىں تو اس کی گنجائش ہے، لیکن دورانِ جماعت عورتیں مردوں کے ساتھ محاذات میں کھڑی ہونے کی بجائے پیچھے صف میں کھڑ ی ہوں گی۔
كما في الدر المختار: (كما تكره إمامة الرجل لهن في بيت ليس معهن رجل غيره ولا محرم منه) كأخته (أو زوجته أو أمته، أما إذا كان معهن واحد ممن ذكر أو أمهن في المسجد لا) يكره بحر (ويقف الواحد) ولو صبيا، أما الواحدة فتتأخر (محاذيا) أي مساويا (ليمين إمامه) إلخ
وفي رد المحتار: (قوله أما الواحدة فتتأخر) فلو كان معه رجل أيضا يقيمه عن يمينه والمرأة خلفهما ولو رجلان يقيمهما خلفه والمرأة خلفهما بحر، وتأخر الواحدة محله إذا اقتدت برجل لا بامرأة مثلها ط عن البرجندي.اهـ (كتاب الإمامة، ج: 1، ص: 566، ط: إيج إيم سعيد)