نکاح

سنی لڑکی کا شیعہ لڑکے سے نکاح کرنا

فتوی نمبر :
92457
| تاریخ :
2026-02-21
معاملات / احکام نکاح / نکاح

سنی لڑکی کا شیعہ لڑکے سے نکاح کرنا

کیا سنی لڑکی کا نکاح شیعہ لڑکے سے ہو سکتا ہے یا نہیں؟ کیونکہ وہ مسلمان ہیں اور سخت قسم کے عقائد نہیں رکھتے، بلکہ سب کی عزت کرتے ہیں اور کسی کی بے عزتی کرنا حرام سمجھتے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شیعوں کی مختلف فرقے ہیں اور ہر فرقے کے عقائد اور نظریات بھی مختلف ہیں،اس لئے شیعوں کےساتھ مناکحت اختیار کرنے میں تفصیل ہے،وہ یہ ہےکہ جس شیعہ کے عقائد اور نظریات یہ ہوں کہ وہ حضرت علی کو خدامانتا ہو،یا قرآن کریم میں تحریف کا قائل ہو،یا حضرت جبرئیل کے وحی لانےمیں غلطی کرنے کا عقیدہ رکھتا ہو،یا حضرت عایشہ پر لگائی جانے والی تہمت کو سچا مانتا ہو ،یا حضرت ابوبکر صدیق کی صحابیت کامنکر ہو،یا اس قسم کاکوئی دوسرا کفریہ عقیدہ ( جوقرآن کریم کے صریح امر کے خلاف) رکھتا ہو تو ایسے عقائدکے حامل شیعہ مرد سےسنی العقیدہ لڑکی کا نکاح قطعاً جائز نہیں البتہ اگر کوئی شیعہ لڑکا خود کو ان مذکورکفریہ عقائد سے مبراء قرار دیتا ہواور اس براءت میں وہ تقیہ اور جھوٹ سے کام نہ لیتا ہوتو اگرچہ ایسے شیعہ لڑکے سے کسی سنی العقیدہ لڑکی کا نکاح کرنے کی گنجائش ہے، تاہم ایسا نکاح آئندہ ہم مسلک نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے اختلافات کا سبب بھی ہوسکتا ہے،لہذا کسی سنی العقیدہ لڑکی کے لئے اپنے جوڑ اور مسلک کے شخص سے نکاح کا اہتمام چاہئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: ‌أو) ‌الكافر ‌بسب (‌الشيخين أو) بسب (أحدهما) في البحر عن الجوهرة معزيا للشهيد من سب الشيخين أو طعن فيهما كفر ولا تقبل توبته، وبه أخذ الدبوسي وأبو الليث، وهو المختار للفتوى انتهى،وفی الشامیۃ تحت قولہ(لکن فی النھر) نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن اھ( مطلب مھم فی حکم سب الشیخین ،ج:4،ص:237، مطبع: ایچ ایم سعید)
و فی الھندیۃ: الرافضي إذا كان يسب الشيخين ويلعنهما والعياذ بالله، فهو كافر، ‌وإن ‌كان ‌يفضل ‌عليا كرم الله تعالى وجهه على أبي بكر - رضي الله تعالى عنه - لا يكون كافرا إلا أنه مبتدع والمعتزلي مبتدع إلا إذا قال باستحالة الرؤية، فحينئذ هو كافر كذا في الخلاصة. ولو قذف عائشة - رضي الله تعالى عنها - بالزنا كفر بالله، ولو قذف سائر نسوة النبي صلى الله عليه وسلم لا يكفر ويستحق اللعنة، ولو قال عمر وعثمان وعلي رضي الله عنهم لم يكونوا أصحابا لا يكفر ويستحق اللعنة كذا في خزانة الفق من أنكر إمامة أبي بكر الصديق رضي الله عنه، فهو كافر، وعلى قول بعضهم هو مبتدع وليس بكافر والصحيح أنه كافر، وكذلك من أنكر خلافة عمر رضي الله عنه في أصح الأقوال كذا في الظهيريةاھ( الباب التاسع في أحكام المرتدين مطلب في موجبات الكفر أنواع منها ما يتعلق بالإيمان والإسلام ج:2 ، ص: 264،مطبع :مکتبہ ماجدیہ)
وفی بدائع الصنائع: ومنها إسلام الرجل إذا كانت المرأة مسلمة فلا يجوز إنكاح المؤمنة الكافر؛ لقوله تعالى: {ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا} [البقرة: 221] ولأن في إنكاح المؤمنة الكافر خوف وقوع المؤمنة في الكفر؛ لأن الزوج يدعوها إلى دينه، والنساء في العادات يتبعن الرجال فيما يؤثرون من الأفعال ويقلدونهم في الدين إليه وقعت الإشارة في آخر الآية بقوله عز وجل: {أولئك يدعون إلى النار} [البقرة: 221] لأنهم يدعون المؤمنات إلى الكفر، والدعاء إلى الكفر دعاء إلى النار؛ لأن الكفر يوجب النار، فكان نكاح الكافر المسلمة سببا داعيا إلى الحرام فكان حرامااھ(کتاب النکاح ،ج:2،ص:271، مطبع: ایچ ایم سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ الف زر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92457کی تصدیق کریں
0     8
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات