مصارف زکوۃ و صدقات

وکیل کا زکوۃ و فدیہ کی رقم اپنے استعمال میں لانا

فتوی نمبر :
92494
| تاریخ :
2026-02-22
عبادات / زکوۃ و صدقات / مصارف زکوۃ و صدقات

وکیل کا زکوۃ و فدیہ کی رقم اپنے استعمال میں لانا

ایک شخص نے مجھے روزوں کا فدیہ اور زکوۃ کے کچھ پیسے دیے اور اس نے کہا کہ یہ کسی مستحق زکوۃ کو دے دینا۔لیکن میں نے انہیں شرم کی وجہ سے نہیں بتایا کہ میں مستحق زکوۃ ہوں اور واقعۃ میرے مالی حالات بہت کمزور اور بیس لاکھ کا مقروض ہوں اور گھر کا خرچہ قرض اٹھا کر پورا کرتا ہوں۔کیا آیا جس شخص نے مجھے یہ رقم دی ہے اس کی زکوۃ ادا ہو گئی ہے؟ اور میں بذات خود خیانت کا مرتکب تو نہیں ہوا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جس آدمی کو زکوۃ یا صدقہ کی ادائیگی کے لیے وکیل بنایا جائے اس کے لیے اس مال کو اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں، البتہ اگر زکاۃ دینے والا شخص وکیل کو اس زکاۃ کی رقم کی تقسیم کرنے کا مکمل اختیار دیدے اور کہے کہ "جہاں چاہے خرچ کرے" تو اس صورت میں اگر وکیل خود زکاۃ کا مستحق ہو تو وہ اس رقم کو اپنے استعمال میں بھی لا سکتا ہے، لہٰذا سائل کو وکیل بناتے وقت زکاۃ اور روزوں کے فدیہ کےتقسیم سے متعلق اگر اصل مالک نے مکمل اختیار دے دیا تھا کہ وہ جہاں چاہے رقم خرچ کرے (جیسا کہ سوال سے بظاہر معلوم بھی ہو رہا ہے)، تو سائل اگر مستحق ہونے کی وجہ سے وہ رقم اپنے ہی استعمال میں لے آیا ہو تو اس سے بھی زکاۃ دینے والے کی زکاۃ درست ادا ہو چکی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدرالمختار: ‌ولو ‌خلط ‌زكاة ‌موكليه ‌ضمن ‌وكان ‌متبرعا ‌إلا ‌إذا ‌وكله ‌الفقراء ‌وللوكيل ‌أن ‌يدفع ‌لولده ‌الفقير وزوجته لا لنفسه إلا إذا قال ربها ضعها حيث شئت اھ(‌‌كتاب الزكاة،ج:٢،ص:٢٦٩،ط:سعيد)
وفي بدائع الصنائع: ‌لأن ‌الوكيل ‌يتصرف ‌بولاية ‌مستفادة ‌من ‌قبل ‌الموكل ‌فيملك ‌قدر ‌ما ‌أفاده، ولا يثبت العموم إلا بلفظ يدل عليه، وهو قوله: اعمل فيه برأيك وغير ذلك مما يدل على العموم اھ(فصل في بيان حكم التوكيل،ج:٦،ص:٢٨،ط:سعيد)
وفی البحرالرائق:وللوكيل ‌بدفع ‌الزكاة ‌أن ‌يدفعها ‌إلى ‌ولد ‌نفسه ‌كبيرا كان أو صغيرا، وإلى امرأته إذا كانوا محاويج، ولا يجوز أن يمسك لنفسه شيئاإلا إذا قال ضعها حيث شئت فله أن يمسكها لنفسه كذا في الولوالجية اھ(شروط أداء الزكاة،ج:٢،ص:٢١١،ط:رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بھائی محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92494کی تصدیق کریں
0     130
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات