السلام علیکم،
بڑے بھائی نےچھوٹے سگے بھائی کو ادھار قرض دیاہیں، اور وہ اتار نہیں سکا گزشتہ دو سالوں سے، کیونکہ مہنگائی کی وجہ سے ہر انسان پریشان ہے، کیا بڑا بھائی اپنی زکوة کی رقم سے اس کا قرض ختم کرسکتا ہے؟ زکوة کی رقم بھی اسی بھائی کی ہے جس نے ادھار دیا ہیں۔
واضح ہو کہ مقروض کو قرض دی ہوئی رقم معاف کرنے سے شرعا زکاۃ ادا نہ ہوگی، اگرچھوٹا بھائی واقعی ضرورت مند ، مستحق زکوۃ غیرسید ہو، اور قرض دینے والا شخص (بڑا بھائی) زکوۃ کی مدمیں اس کے ساتھ تعاون کرناچاہتاہو، تو اس کا بہترطریقہ یہ ہے کہ چھوٹا بھائی کسی تیسرے شخص سے کچھ رقم ادھارلیکر اپنے بھائی کا قرض اداکرلے، اوربڑا بھائی اپنا قرض وصول کرنے کے بعد وہ رقم بنیت زکوۃ چھوٹے بھائی کو دوبارہ دیدے، تاکہ وہ تیسرے شخص کو اس کی قرض دی ہوئی رقم ادا کردے، اس طرح کرنے سے ادائیگی زکوۃ بھی درست ہوجائے گی اور مقروض شخص کا قرض بھی ادا ہوجائے گا۔
كما فی الدر المختار: وأداء الدين عن العين، وعن دين سيقبض لا يجوز. وحيلة الجواز أن يعطي مديونه الفقير زكاته ثم يأخذها عن دينه اهـ [كتاب الزكاة، ج:2 ص:271 ط: سعيد]
وفی بدائع الصنائع: وأداء الدين عن العين لا يجوز بأن كان له على فقير خمسة دراهم وله مائتا درهم عين حال عليها الحول فتصدق بالخمسة على الفقير ناويا عن زكاة المائتين؛ لأنه أداء الناقص عن الكامل فلا يخرج عما عليه، والحيلة في الجواز أن يتصدق عليه بخمسة دراهم عين ينوي عن زكاة المائتين ثم يأخذها منه قضاء عن دينه فيجوز ويحل له ذلك اهـ [كتاب الزكاة، فصل الذي يرجع إلى المؤدي، ج:2 ص:43 ط: سعيد]
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0