السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک شخص نے کسی فرد سے فلیٹ کی مد میں 30 لاکھ روپے وصول کیے۔ یہ رقم اس کے پاس نہیں تھی، بلکہ اس نے بغیر اجازت وہ رقم اپنے کاروبار میں لگا دی۔ کاروبار میں نقصان ہوگیا اور اب وہ 30 لاکھ روپے واپس کرنے کا شرعاً اور قانوناً ذمہ دار ہے۔
اس وقت اس شخص کے پاس ذاتی طور پر کچھ نہیں ہے، لیکن اس کی بیوی کے پاس تقریباً 2 تولہ سونا موجود ہے۔ وہ شخص اپنی غلطی پر نادم ہے اور رقم واپس کرنے کا پختہ ارادہ رکھتا ہے۔
سوال یہ ہے:
کیا ایسا شخص زکوٰۃ کا مستحق ہو سکتا ہے؟
کیا اسے "غارمین" (قرض دار) کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے؟
کیا اس صورت میں اسے زکوٰۃ دینا شرعاً درست ہوگا، جبکہ وہ خود مالی طور پر کمزور ہے اور رقم واپس کرنے کا ارادہ رکھتا ہے؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
مذکور شخص کے پاس قرض کی رقم منہا کرنے کے بعد اگر سونا چاندی نقدی اور ضرورت اصلیہ سے زائد کوئی چیز بقدر نصاب ( ساڑھے باون تولہ چاندی کی ملکیت ) موجود نہ ہو اور وہ سید بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں اگرچہ اسکی بیوی کی ملکیت میں دو تولہ سونا موجود ہو تب بھی وہ شخص مستحق زکوٰۃ شمار ہوگا، اور اسے زکوٰۃ کی رقم دینا جائز ہوگا۔
وفی بدائع الصنائع: ولو دفع إلى امرأة فقيرة وزوجها غني جاز في قول أبي حنيفة ومحمد وهو إحدى الروايتين عن أبي يوسف وكذا يجوز الدفع إلى فقير له ابن غني وإن كان يجب عليه نفقته لما قلنا: إن تقدر النفقة لا يصير غنيا فيجوز الدفع إليه (فصل الذی یرجع الی المؤدی الیہ، ج: 2، ص: 47، ط: سعید)
وفی الھندیہ: لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهدي والشرط أن يكون فاضلا عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا كذا في الزاهدي. ولا يدفع إلى مملوك غني غير مكاتبه كذا في معراج الدراية (الباب السابع فی المصارف، ج: 1، ص: 189، ط: ماجدیہ)
و فی الھندیہ: ھی تملیک المال من فقیر مسلم غیر ھاشمی ولا مولاہ بشرط قطع المنفعۃ عن الملک من کل وجہ للہ تعالی (کتاب الزکاۃ، ج: 1، ص: 170، ط: ماجدیہ)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0