نکاح

نند کی بچی کو دودھ پلانے کے بعد اپنے بیٹے سے ا س کا نکاح کرنا

فتوی نمبر :
92799
| تاریخ :
2026-03-01
معاملات / احکام نکاح / نکاح

نند کی بچی کو دودھ پلانے کے بعد اپنے بیٹے سے ا س کا نکاح کرنا

السلام علیکم!
محترم جناب !میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں نے اپنی نند کی بیٹی کو جب وہ 6 ماہ کی عمر کی تھی تو میں نے اس کواپنا دودھ پلایا تھا ،چونکہ میری نند اپنی بیٹی کو میرے پاس چھوڑ کر چلی گئی تھی اور صبح سے لے کر شام تک واپس نہیں آئی، بچی چھوٹی ہونے کی وجہ سے بھوک سے کافی زیادہ بلک رہی تھی تو میں نےبھی ماں ہونے کی حیثیت سے اپنےشوہر، ساس اور شوہر کی چچی کی موجودگی اور اجازت سے اپنی نند کی چھ ماہ کی بیٹی کو دودھ پلایا جس کے وہ سب گواہ بھی ہے ما سوائے میری ساس کے، کیونکہ ان کا اب انتقال ہو چکاہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ جب میری نند کی بیٹی نے میرا دودھ پیا اس وقت میرا بیٹا بھی چھوٹا تھا اور میں اس کو بھی دودھ پلاتی تھی اب بچے بڑےہوچکےہیں اوریہی دونوں بچے اب ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے ہیں اورشادی بھی کرنا چاہتے ہیں،میرا بیٹا اور میری نند کی بیٹی ایک دوسرے کو اس حد تک پسند کرتے ہیں کہ مجھے خدشہ ہے کہ کہیں دونوں کے درمیان غلط تعلقات نہ ہوں اور اس سب بات سے میری نند یعنی لڑکی کی ماں، اور لڑکی کا باپ اور لڑکی کے 2 بھائی بھی بخوبی واقف ہیں ۔ لہذا میرے مسئلے کو انتہائی غور سے دیکھتے ہوئے دین کی روشنی میں میری صحیح رہنمائی کیجئے کہ کہیں خدانخواستہ آخرت میں رب کے سامنے شرمندگی نہ ہو۔ شکریہ ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگرواقعۃً سائلہ نے اپنی نند کی بچی کو مدتِ رضاعت (دو سال کے اندر) اپنا دودھ پلایا تھا توسائلہ اوراس بچی کے درمیان رضاعت کا رشتہ ثابت ہوچکاہے۔چنانچہ سائلہ اس کی رضاعی ماں اورسائلہ کی اولاداس کے رضاعی بہن بھائی بن چکے ہیں،جس طرح حقیقی بہن بھائی کارشتہ شرعاًناجائزہے اسی طرح رضاعی بھائی بہن کارشتہ بھی شرعاًناجائزہے، چنانچہ مذکورہ لڑکا (سائلہ کا بیٹا) اور لڑکی (نند کی بیٹی)کا آپس میں نکاح شرعاً جائز نہیں، اس لئے اس سے اجتناب لازم ہے، ایسے حالات میں والدین پر لازم ہے کہ فوراً ان دونوں کو اس حقیقت سے آگاہ کرکے ان کے درمیان فاصلہ قائم کریں، اور کسی بھی ممکنہ گناہ کے دروازے کو بند کریں۔

مأخَذُ الفَتوی

کماقال اللہ تبارک وتعالیٰ فی کلامہ المجید: "حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ أُمَّهَٰتُكُمۡ وَبَنَاتُكُمۡ وَأَخَوَٰتُكُمۡ وَعَمَّٰتُكُمۡ وَخَٰلَٰتُكُمۡ وَبَنَاتُ ٱلۡأَخِ وَبَنَاتُ ٱلۡأُخۡتِ وَأُمَّهَٰتُكُمُ ٱلَّٰتِيٓ أَرۡضَعۡنَكُمۡ وَأَخَوَٰتُكُم مِّنَ ٱلرَّضَٰعَةِ ۔" (سورۃ النساء، آیۃ: 23)
وفی الصحیح للامام مسلم رحمہ اللہ: عن عائشۃ قالت: قال لی رسول اللہ ﷺ"یحرم من الرضاعۃ ما یحرم من الولادۃ " اھ (ج:1، کتاب الرضاع ص:742،رقم الحدیث : 1444،مط: بشریٰ) ۔
و فی الفتاویٰ الھندیۃ: یحرم علی الرضیع ابواہ من الرضاع و اصولھما و فروعھما من النسب و الرضاع جمیعاً الخ ( ج :1،کتاب الرضاع ،ص:343 ط : ماجدیہ ) ۔
وفی الدرالمختار: باب الرضاع: (هو) لغةً بفتح وكسر: مص الثدي. وشرعاً: (مص من ثدي آدمية) ولو بكراً أو ميتةً أو آيسةً، وألحق بالمص الوجور والسعوط(في وقت مخصوص) هو (حولان ونصف عنده وحولان) فقط (عندهما، وهو الأصح)فتح،الخ۔ الی قولہ (فيحرم منه) أي بسببه (ما يحرم من النسب) رواه الشيخان،الخ (ج:3،ص:213،209 باب الرضاع، ط: سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اسلم امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92799کی تصدیق کریں
0     9
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات