نکاح

ایجاب و قبول کئے بغیر نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
92800
| تاریخ :
2026-03-01
معاملات / احکام نکاح / نکاح

ایجاب و قبول کئے بغیر نکاح کا حکم

السلام علیکم! ہمیں ایک ساتھ رہتے ہوئے چھ سال سے زیادہ ہو چکے ہیں ، ہمارے دو بچے ہیں، یہ سوال ہم دونوں میاں بیوی نے مل بیٹھ کر لکھا ہے۔میری بیوی کو بیس سال کی عمر میں ایک لڑکا پسند کرنے لگا تھا، اور وہ دونوں تقریباً دو تین مہینے تک بات چیت کرتے رہے۔ اس دوران میری بیوی کا ارادہ تھا کہ وہ کسی سے تعلق نہیں رکھے گی۔ لیکن اچانک اس لڑکے نے اسے شادی کی پیشکش کر دی،ایک دن جب وہ ملنے گئی تو اس لڑکے کے دوست بھی وہاں موجود تھے، انہوں نے کہا : "ہمارے دوست کے پاس تمہارے لیے ایک تحفہ ہے"۔پھر انہوں نے اس کی آنکھوں پر کپڑا باندھ کر اسے ایک جگہ لے گئے۔راستے میں میری بیوی نے مذاقاً پوچھا: "کیا وہ مجھے پروپوز کرنے والا ہے؟"جب وہ وہاں پہنچی تو اس لڑکے نے اپنے عشق کا اظہار کیا اور اس سے شادی کی درخواست کی۔یہ واقعہ 2018 میں ہوا تھا، اس لیے اب اسے ٹھیک سے یاد نہیں کہ اس لڑکے نے کون سے الفاظ استعمال کیے تھے، بس اتنا یاد ہے کہ اس نے اپنی محبت کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے، کہ وہ اسے اپنی زندگی کا ساتھی بنانا چاہتا ہے۔ ممکن ہے اور بھی کچھ کہا ہو۔جب میں نے پوچھا کہ تم نے کیا جواب دیا تھا تو اس نے کہا:"میں نے نہ ہاں کہا تھا اور نہ ہی نہیں،میں نے کچھ بھی نہیں کہا"۔وہ کہتی ہے کہ شاید اس نے ہلکا سا سر جھکا دیا ہو، لیکن یقین سے نہیں کہہ سکتی۔ اس کے اندازے کے مطابق شاید تیس فیصد جھکایا ہو، ستر فیصد نہیں، اسے ٹھیک سے یاد نہیں۔لیکن ایک بات اسے سو فیصد یاد ہے کہ اس وقت اس کا شادی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ وہ اس لڑکے سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی، نہ اس کے ساتھ زندگی گزارنے کا ارادہ تھا،مگر مجھے، اس کے شوہر کو، دل کا سکون نہیں مل رہا۔ مجھے یہ خیال پریشان کرتا ہے کہ کہیں اس نے اس وقت "ہاں" تو نہیں کہہ دیا تھا۔ یہی سوچ مجھے اندر سے کھا رہی ہے۔میں سوچتا ہوں:اگر اس نے واقعی "ہاں" کہہ دیا ہو تو کیا نکاح ہو گیا ہوگا؟اس وقت اسے یہ علم نہیں تھا کہ اس طرح کی باتوں سے نکاح ہو سکتا ہے۔ اگر اسے معلوم ہوتا تو وہ یقیناً "نہیں" کہہ دیتی اور سر بھی نہ جھکاتی۔
میرا سوال یہ ہے:اگر اس نے "ہاں" بھی کہا ہو، لیکن دل میں شادی کا ارادہ نہ ہو، تو کیا نکاح ہو سکتا ہے؟میری بیوی کہتی ہے کہ اس کی نیت بالکل صاف تھی ،وہ اس لڑکے سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی اور نہ اس کے ساتھ رہنا چاہتی تھی،لیکن میں مسلسل اسی فکر میں مبتلا ہوں کہ کہیں اس نے "ہاں" کہہ کر نکاح تو نہیں کر لیا تھا۔اس وقت اسے دین کی زیادہ سمجھ نہیں تھی۔ وہاں کوئی مولوی موجود نہیں تھا۔ وہاں موسیقی تھی، آتش بازی تھی، ایک عام تقریب جیسا ماحول تھا۔اگر اس نے سر جھکایا بھی ہو تو یہی خیال مجھے بے چین کر دیتا ہے کہ کہیں یہ رضامندی نہ سمجھی گئی ہو۔وہاں "میں نے تمہیں قبول کیا"، "میں نے خود کو تمہارے حوالے کیا" جیسے الفاظ استعمال نہیں ہوئے تھے۔ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ اس معاملے کی اچھی طرح تحقیق کر کے ہمیں صحیح رہنمائی فراہم کریں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ نکاح کے انعقاد کے لیے ایک ہی مجلس میں دو عادل گواہوں کی موجودگی میں صریح الفاظ میں ایجاب و قبول کا پایا جاناضروری ہے۔ محض محبت کا اظہار، شادی کی خواہش کا بیان، خاموش رہنا یا سر جھکا دینا شرعی نکاح کے لیے کافی نہیں، جب تک باقاعدہ ایجاب وقبول کے الفاظ گواہوں کی موجودگی میں ادا نہ کیے جائیں۔چنانچہ صورت مسئولہ میں بیان کردہ واقعہ میں چونکہ مذکورشرائط کالحاظ نہیں رکھاگیا؛ لہٰذا اس سےشرعاً کوئی نکاح منعقد نہیں ہوا۔اس بنا پر موجودہ نکاح صحیح اور برقرار ہے، اس لیےسائل کو شک وشبہ میں مبتلاہونے اوربےبنیادوساوس کودل میں جگہ دینے سے اجتناب چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدرالمختار:(وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي) لأن الماضي أدل على التحقيق (كزوجت) نفسي أو بنتي أو موكلتي منك ۔۔۔ (وإنما يصح بلفظ تزويج ونكاح) لأنهما صريح (وما) عداهما كناية هو كل لفظ (وضع لتمليك عين) كاملة فلا يصح بالشركة (في الحال) خرج الوصية غير المقيدة بالحال (كهبة وتمليك وصدقة وعطية وقرض وسلم واستئجار)(ج:3، کتاب النکاح ،ص:16،9، مط: سعید کراچی)۔
وفی الفتاویٰ الھندیۃ: "(وأما ركنه) فالإيجاب والقبول، كذا في الكافي والإيجاب ما يتلفظ به أولا من أي جانب كان والقبول جوابه هكذا في العناية(الیٰ قولہ)(ومنها) سماع كل من العاقدين كلام صاحبه هكذا في فتاوى قاضي خان الخ۔(ج:1،الباب الأول في تفسير النكاح شرعا وصفته وركنه وشرطه وحكمه ،ص:267،مط:ماجدیۃ)
وفی ردالمحتارتحت قول الدر(اذالم ینو الاستقبال): قال في شرح الطحاوي: لو قال هل أعطيتنيها فقال أعطيت إن كان المجلس للوعد فوعد، وإن كان للعقد فنكاح. اه (ج:3،کتاب النکاح، ص:11 ، مط: سعید کراچی)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اسلم امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92800کی تصدیق کریں
0     5
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات