السلام علیکم!
میری عمر 28 سال ہے، اور میں اپنی بھابھی کے بھائی سے شادی کرنا چاہتی ہوں جو کہ سعودی عرب میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتے ہیں۔ وہ مجھ سے ایک سال چھوٹے ہیں اور طلاق یافتہ ہیں، اور ان کی ایک بیٹی ہے۔ ان کی بیٹی اپنی ماں کے پاس ہے جس کا ماہانہ خرچ وہ دیتے ہیں۔ (ان کی شادی گھر والوں کے پریشر میں ہوئی تھی، گھریلو مسائل اور ان کی بیوی کا اپنے سسر کے ساتھ بے تکلفی طلاق کی وجہ بنی، اور شادی کچھ ماہ میں ہی ختم ہوگئی۔)
میں اپنی خوشی اور پورے دل سے ان سے شادی کرنے کے لیے راضی ہوں، لیکن میری امی اور میرا بھائی راضی نہیں ہیں، اور ابو راضی ہیں مگر امی اور بھائی کے آگے کچھ نہیں بولتے کیونکہ ہمارے گھر کی ذمہ داری بھائی اٹھاتا ہے اور جو امی کہتی ہیں ہمارے گھر میں وہی ہوتا ہے۔ میرا پہلے بھی ایک جگہ رشتہ ہوا تھا جو کہ 5 سال رہنے کے بعد شادی ہونے سے ایک ہفتہ پہلے ختم ہوگیا۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ میری امی کی ہی چلتی ہے، تو وہ میرے رشتے کے معاملات میں بھی خود ہی آگے رہتی تھیں اور وہی آخر میں میرا رشتہ ختم ہونے کی وجہ بنی۔
میں رشتوں کے معاملات سے تھک گئی ہوں، بار بار کسی کے سامنے جانا اور پھر اب میری پسند یہی ہے تو میں یہاں شادی کرنا چاہتی ہوں مگر یہ لوگ راضی نہیں ہیں۔ میں جب شادی کی بات کرتی ہوں تو امی ابو مجھے مارتے ہیں، بہت برا کہ میرے بال نوچتے ہیں تو وہ ٹوٹ کر ان کے ہاتھ میں آجاتے ہیں اور ہونٹ سے خون نکل آتا ہے۔ ایک سال سے زیادہ ہوگیا میرا فون بھی لیا ہوا ہے انہوں نے، میری جاب بھی چھڑوا دی ہے اور مجھے کہیں آنے جانے نہیں دیتے، نہ اکیلے نہ کسی دوست سے ملنے دیتے۔میں یہ سب سے تھک چکی ہوں۔ میں نے ایک بار خودکشی کی بھی کوشش کی ہے ایک ماہ پہلے لیکن ان کی ضد ختم نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے، اور وٹے سٹے اور ایک بیٹی کے باپ ہونے کی وجہ سے ہم شادی نہیں کریں گے تمہاری وہاں، چاہے تم مر جاؤ۔ میری بھابھی کو بھی باتیں سناتے ہیں امی اور بھائی کہ تمہارے بھائی کی وجہ سے ہورہا ہے یہ، جبکہ ان کے گھر والے تیار ہیں اور بار بار میرا رشتہ مانگتے ہیں۔میں گناہوں میں پڑ گئی ہوں، میرا ذہن بھٹکتا ہے، تو اس سب سے بچنے کے لیے میں نے کورٹ میرج کی ہے چپ کر اپنے گھر والوں سے، اور کورٹ میرج کے بعد واپس اپنے ہی گھر ہوں مگر میرے گھر والوں کو نہیں پتا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ:
میں نے کورٹ میرج کی ہے لیکن کورٹ جا کر نہیں کی کیونکہ مجھے وہاں جانا غیر مناسب لگا، اس لیے نکاح میرا وکیل کے گھر کے پاس ہوا ہے۔ تو فارم میں جن گواہوں کے نام درج ہیں وہ physically وہاں موجود نہیں تھے، ہاں البتہ میری ایک دوست اور ان کے شوہر اور جن سے میرا نکاح ہوا ہے ان کے ایک دوست نکاح کے وقت موجود تھے، اور یہ تینوں بالغ ہیں جو نکاح کے وقت موجود تھے۔
1-تو کیا جن گواہوں کا نام فارم میں درج ہے ان کا ہونا لازمی تھا؟ یا ان کا فارم میں نام ہونا کافی ہے؟
2-اور جو ہمارے ساتھ 3 لوگ تھے وہ ہی گواہ کے طور پر مان لیے جائیں کہ ہاں ان کی موجودگی میں نکاح ہوا ہے؟
3- وکیل نے ہم دونوں سے papers sign کروائے اور خود ہی ہم سے رضامندی پوچھی، قاضی صاحب بھی نہیں تھے۔
کیا ایسے میں نکاح ہوگیا کہ نہیں؟
صورت مسئولہ میں اگر سائلہ خود عقد نکاح کے وقت موجود ہو اور اس لڑکے نے مذکور وکیل کو اپنا نکاح سائلہ کے ساتھ کرانے کا اختیار دے دیا ہو، جس پر وکیل نے دو مرد اور ایک عورت کے ساتھ سائلہ سے لڑکے کی جانب سے ایجاب و قبول کیا ہو تو شرعاً یہ نكاح منعقد ہو چکا ہے، بشرطىکہ لڑکا و لڑکی باہم ہم کفو بھی ہوں، لیکن اگر عقد نکاح کی نوعیت کچھ اور ہو، تو سائلہ اس کی تمام تر تفصیل اور طریقہ کار بیان کر کے سوال دوبارہ ارسال کر دے ،اس پر غور و فکر کے بعد ان شاءاللہ حکم شرعی سے بھی آگاہ کر دیا جائے گا، البتہ سائلہ کا اس طرح سے كورٹ مىرج كا اقدام کرنا درست طرز عمل نہ تھا، كىونكہ اولیاء کی رضامندی کے بغیر چھپ کر نکاح کرنا انتہائی معیوب، نا مناسب اور ناپسندىده عمل ہے، جسے شریف گھرانوں میں انتہائی قبیح فعل گردانا جاتا ہے، اىسے نكاح کا نتیجہ عموما بڑوں کی دعاؤں سے خالی ہونے کی وجہ سے طلاق یا خلع کی صورت میں نکلتا ہے، تاہم اگر اس لڑکے میں دىن اور اخلاق کے اعتبار سے کوئی خرابی نہ ہو ،تو سائلہ کے بڑوں کو بھی اس کی پسند کا خیال رکھتے ہوئے اس نکاح کو ختم نہ کرنا چاہیے، خصوصاً جبكہ سائلہ بھى گناه مىں پڑگئى ہو، بلکہ اب درگزر کرتے ہوئے ان کے گھر کو آباد رکھنے کی کوشش كرنى چاہیے، اور سائلہ کو بھی چاہیے كہ وہ حکمت سے اپنے گھر کے بڑوں کو اعتماد میں لے کر انہیں راضی کرنے کی کوشش کریں، تاکہ ان کے اعتماد سے یہ ازدواجی رشتہ مستقل بنیادوں پر قائم رہ سکے ۔
کما في الدرالمختار: ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين، وإن طال اھ (کتاب النکاح ج: 3 ص: 14 ط: سعید )
وفیه أیضاً: (و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) اھ (کتاب النکاح، ج:3 ص: 22 ط: سعید)
وفي بدائع الصنائع: وأما بيان وقت هذه الشهادة - وهي حضور الشهود - فوقتها وقت وجود ركن العقد - وهو الإيجاب والقبول - لا وقت وجود الإجازة اهـ [كتاب النكاح، فصل بيان وقت هذه الشهادة في النكاح ج: ٢ص:256 ط: سعید]
وفي الهداية: "الكفاءة في النكاح معتبرة" قال عليه الصلاة والسلام "ألا لا يزوج النساء إلا الأولياء ولا يزوجن إلا من الأكفاء" ولأن انتظام المصالح بين المتكافئين عادة لأن الشريفة تأبى أن تكون مستفرشة للخسيس فلا بد من اعتبارها بخلاف جانبها لأن الزوج مستفرش فلا تغيظه دناءة الفراش "وإذا زوجت المرأة نفسها من غير كفء فللأولياء أن يفرقوا بينهما" دفعا لضرر العار عن أنفسهم اهـ [كتاب النكاح، باب في الأولياء والأكفاء، فصل في الكفاءة، ج:1 ص:195 ط: دار إحياء التراث العربي)]
وفي الشامية: يستحب للمرأة تفويض أمرها إلى وليها كي لا تنسب إلى الوقاحة اهـ (كتاب النكاح، باب الولي، ج:3 ص:55 ط: سعيد)