میں حلفیہ بیان کرتا ہوں اللہ تعالی کو حاضر ناظر سمجھ کر جو بول رہاہوں سچ بولوں گا اور جھوٹ بولا تو عذاب کا حقدار ہوں گا میں تمام خلفائے راشدین کو مانتا ہوں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنها کا احترام کرتا ہوں ،حضرت علی رضی اللہ عنہ خلفائے راشدین میں سے ہے، نہ اللہ کے نبی ہیں، نہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر ہے، میں حضرت عائشہ کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ نبی کی طرح احترام کرتا ہوں اور قران مجید کے 30 پارے ہیں وہی جو سنی بھائی جان لوگ کہتے ہیں ،کیا ان عقائد کے ہوتے ہوئے کسی سنی لڑکی کے ساتھ میرا نکاح جائز ہے؟ میرا تعلق شیعہ اثنا عشریہ فرقہ سے ہے۔
جواب سے قبل بطور تمہید دو باتوں کی وضاحت ضروری ہے تاکہ اسی کی روشنی میں جواب کا سمجھنا اسان ہو، (1) پہلی بات تو یہ ہے کہ عقیدہ ایک باطنی اور مخفی امر ہے جن کی تکمیل زبان سے اس کا اقرار کرنے کے ساتھ ساتھ دلی تصدیق بھی ضروری ہے،(2) شیعہ حضرات کی کتب میں فرقہ اثنا عشریہ کے عقائد سائل کے ذکر کردہ تفصیل کے بالکل برعکس اور باتفاق علماء کرام کفریہ ہیں ۔لہذا سائل کا فرقہ اثنا عشر یہ سے تعلق رکھنے کے باوجود اپنے عقائد کو ان کے خلاف بالکل برعکس بیان کرنا عقائد کے حوالےسے اس کی بنیادی شکوک و شبہات کا سبب بن رہا ہے۔ تاہم سائل اگر واقعۃ سوال میں ذکر کردہ عقائد کا حامل ہو اور فرقہ اثنا عشر یہ کے بنیادی عقائد کے حامل شخص کو دائرہ اسلام سے خارج مانتا ہو اور خود ان کے کفریہ عقائد سے بالکلیہ برأت کا اظہار کرتا ہو ،تو اگرچہ اس پر کفر کا حکم تو نہیں لگایاجاسکتا، لیکن اس کے باوجود بھی وہ سنی العقیدۃ لڑکی کا کفؤ نہیں، اس لیے کسی بھی سنی لڑکی کو اس کے ساتھ نکاح کرنے سے اجتناب چاہیے۔
کما في تفسير ابن كثير:إن الذين يرمون المحصنات الغافلات المؤمنات لعنوا في الدنيا والآخرة ولهم عذاب عظيم(الى قوله) وقد أجمع العلماء رحمهم الله قاطبة على أن من سبها بعد هذا ورماها بما رماها به بعد هذا الذي ذكر في هذه الآية، فإنه كافر لأنه معاند للقرآن(سورة النور:23،ج:3 ،ص:367 ،ط:قديمى كتب خانه)
وفي سنن الترمذى:عن أبي حاتم المزني قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا جاءكم من ترضون دينه وخلقه فأنكحوه، إلا تفعلوا تكن فتنة في الأرض وفساد»، قالوا: يا رسول الله، وإن كان فيه؟ قال: «إذا جاءكم من ترضون دينه وخلقه فأنكحوه»، ثلاث مرات (باب ما جاء إذا جاءكم من ترضون دينه فزوجوه،ج:1،ص429،ط:البشرى)
وفی رد المحتار : نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن، ولكن لو تاب تقبل توبته اھ ( مطلب مهم في حكم سب الشيخين،ج:4،ص:237،ط:سعيد)
و فيہ ایضا : (قوله يا رافضي) قال في البحر: ولا يخفى أن قوله يا رافضي بمنزلة يا كافر أو يا مبتدع فيعزر؛ لأن الرافضي كافر إن كان يسب الشيخين مبتدع إن فضل عليا عليهما من غير سب كما في الخلاصة. اهـ.(باب التعزير ،ج:4،ص:70،ط:سعيد )
وفي الفتاوى الهندية: الرافضي إذا كان يسب الشيخين ويلعنهما والعياذ بالله، فهو كافر، وإن كان يفضل عليا كرم الله تعالى وجهه على أبي بكر رضي الله تعالى عنه لا يكون كافرا إلا أنه مبتدع والمعتزلي مبتدع إلا إذا قال باستحالة الرؤية، فحينئذ هو كافر كذا في الخلاصة. ولو قذف عائشة - رضي الله تعالى عنها بالزنی كفر بالله إلى قوله من أنكر إمامة أبي بكر الصديق رضي الله عنه، فهو كافر، وعلى قول بعضهم هو مبتدع وليس بكافر والصحيح أنه كافر، وكذلك من أنكر خلافة عمر رضي الله عنه في أصح الأقوال كذا في الظهيرية اھ(الباب فى أحكام المرتدين،ج:2،ص 264،ط:ماجدية)۔