کیا کورٹ میرج اسلام میں جائز ہے ؟
واضح ہو کہ اولیاء کی اجازت اور رضامندی کے بغیر لڑکا لڑکی کا کورٹ میرج کرنا انتہائی نامناسب ،اور شرم وحیاء کےتقاضوں کے خلاف اقدام ہے ،شریف خاندانوں میں اس طرح نکاح کو سخت معیوب سمجھا جاتا ہے،جو کہ خاندان کی بدنامی کا باعث بنتا ہے، اور بڑوں کی سرپرستی اور دعاؤں سے خالی ہونے کی وجہ سے عموماً ایسا نکاح طلاق اور خلع پر منتج ہوتا ہے ، اور ایسا نکاح اگر غیر کفؤ میں ہو تو شرعاً منعقد ہی نہیں ہوتا ، تاہم اگر لڑکا لڑکی کا کفؤ ہو ،تو یہ نکاح اگرچہ شرعاً منعقد ہوجاتا ہے ، لیکن اس کے باوجود اس طرح کے نکاح سے بہر صورت اجتناب لازم ہے۔
کمافی الدر المختار: ومن شرائط الإیجاب والقبول: اتحاد المجلس لوحاضرین وإن طال (ج3، صـــ 14، ط:سعید)۔
وفیہ ایضاً: (وشرط سماع كل من المتعاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما (و) شرط (حضور) شاھدین (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معاً) اھ ( ج3، صـــ21-22، ط:سعید)۔
و فی الھندیۃ: و منھا سماع کل من العاقدین کلام صاحبہ ھکذا فی فتاوی قاضی خان اھ( ٤/۲۶۸) واللہ اعلم بالصواب