میرا ایک دوست ہے، وہ اس وقت بے روزگار ہے، اور راشن اور افادیت کے لیے پچھلے 3 ماہ سے پیسے مانگ رہا ہے، میں نے اسے بغیر زکوٰۃ کے پیسے فراہم کیے ہیں، لیکن اب میرے ہاتھ میں زکوٰۃ کی رقم ہے، اور وہ رقم مانگ رہا ہے، کیا میں اپنی زکوٰۃ کی رقم سے یہ بتائے بغیر دے سکتا ہوں کہ میں زکوٰۃ کی رقم ادا کر رہا ہوں؟
سائل کا مذکودوست اگر واقعۃً مستحق زکوۃ ہو، یعنی اس کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا،یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کی مالیت کے بقدر نقدی، مال تجارت یا ضرورتِ اصلیہ سے زائد سامان موجود نہ ہو، اور وہ سید بھی نہ ہوتو ایسی صورت میں سائل کے لئےزکوۃ کی رقم سے بتائے بغیر اپنے دوست کی مدد کرنا شرعاً جائز اور درست ہے، (بشرطیکہ ادائیگی کے وقت نیت زکوۃ کی ہو)اور اس سے زکوۃ بھی ادا ہوجائے گی ۔
کما في الفتاوى الهندية:فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى -(1/ 170)۔
وفیھا ایضاً:"ومن أعطى مسكينا دراهم وسماها هبة أو قرضا ونوى الزكاة فإنها تجزيه،وهو الأصح هكذا في البحر الرائق ناقلا عن المبتغى والقنية."(كتاب الزكوة، الباب فى تفسير الزكوة، ج:1، ص:171، ط:مكتبه رشيديه)۔
وفی الدر المختار: أي مصرف الزكاة (الی قولہ) (هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة الخ (باب المصرف،ج 2، ص 339، ط: سعید)۔
وفی الدر المختار:قال العلامة الحصكفى رحمہ اللہ:(وشرط صحة أدائها نية مقارنة له)أي للأداء(ولو)کانت المقارنة(حكما)قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ : قوله:( نية) أشار إلى أنه لا اعتبار للتسمية، فلو سماها هبة أو قرضا،تجزيه في الأصح.(268/2)۔