السلام علیکم !
کیا مامو کی بیوی سے شادی کرنا حلال ہے ؟
واضح ہوکہ ممانی (ماموں کی بیوی)چونکہ محرماتِ ابدیہ میں شامل نہیں، اسی لیے اگر ماموں کا انتقال ہو جائے، یا کسی وجہ سےان دونوں کا آپس میں نکاح ختم ہو جائے،تو محض ممانی ہونے کی وجہ سے ان سے نکاح حرام نہیں ،بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ پائی جارہی ہو۔
قال اللہ تبارک و تعالی: حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمً. (النساء:23)۔
وفی مقام آخر:"وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَٰلِكُمْ أَن تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ." ﴿النساء: ٢٤﴾۔