السلام علیکم، میرا نام عبداللہ ہے، میرا تعلق پاکستان سے ہے اور میں ایک شیعہ لڑکی سے محبت کرتا ہوں ، وہ بھی مجھ سے محبت کرتی ہے ، لیکن ہمیشہ سے سنا ہے شیعو ں کا نکاح سنی سے نہیں ہوتا ، تو ہمارے تمام عقائد ایک طرح کے ہیں ،صرف یہ کہ صحابہ کرام پر تھوڑا سا فرق ہے، اس لڑکی کا عقیدہ یہی ہے کہ تمام صحابہ کرام ٹھیک تھے، لیکن اگر کسی سے کوئی غلطی ہو ئی ہے تو میں اس پر کسی صحابی کو برا نہیں کہتی، تمام اچھے تھے اور ان کے جنتی یا کوئی بھی دوسرا معاملہ ہے، وہ اللّٰہ اور انکا معاملہ ہے، وہ شیعوں کی بہت سے چیزوں کو غلط بھی کہتی ہے ، جیسے کے انکا کلمہ ، نماز، اذان ،اور امام بارگاہ بھی نہیں جاتی اور تراویح وغیرہ سب کچھ پڑتی ہے ،تمام عقائد میرے جیسے ہیں جو کہ اہل سنت کے ہونے چاہیے ، تو کیا میرا نکاح جائز ہے انکے ساتھ؟ معذرت کے ساتھ کوئی غلطی ہوئی ہوتو پہلی بار یہ ایپ استعمال کی ہے ۔
واضح ہو کہ مذکور شیعہ لڑکی اگر فرقہ اثنا عشریہ سے تعلق نہ رکھتی ہو اور نہ ہی صریح مخالفِ قرآن کوئی کفریہ عقیدہ رکھتی ہو، مثلاً حضرت علی رضی اللہ عنہ کی الوہیت کی قائل نہ ہو ، اور نہ ہی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگائی گئی تہمت کو درست مانتی ہو ، اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی صحابیت کی بھی منکر نہ ہو ، اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کے وحی لانے میں غلطی کی بھی قائل نہ ہو ، اور قرآن کریم میں تحریف کی بھی قائل نہ ہو اورواقعۃً اہلِ سنت والجماعت کے بنیادی عقائد کی قائل ہو، کسی صحابی کی تنقیص اور سبّ و شتم نہ کرتی ہو، ان کی عدالت و عظمت کی منکر نہ ہو، اہلِ بیت سے محبت کے ساتھ ساتھ خلفائے راشدین اور دیگر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا احترام کرتی ہو تو ایسی شیعہ لڑکی سے کسی بھی سنی لڑکے کا نکاح کرنا اگر چہ جائز اور درست ہے، البتہ چونکہ عقائد کا معاملہ نہایت حساس ہے، اس لیے محض ظاہری دعووں یا محبت کی بنیاد پر فیصلہ نہ کیا جائے، بلکہ کسی مستند، متدین اور صاحبِ علم عالمِ دین کے سامنے دونوں خاندانوں کے عقائد کی اچھی طرح تحقیق کرلی جائے۔ اگر تحقیق کے بعد اس کے عقائد درست اور اہلِ سنت کے موافق ثابت ہوں تو نکاح کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ، لیکن اگروہ باطل عقائد کی حامل ہو تو ایسے رشتے سے اجتناب لازم ہےاور کسی صحیح العقیدہ سنی لڑکی سے نکاح کیا جائے ، تاکہ آنےوالی نسلوں پر غلط اثر نہ پڑے ۔
کما فی صحیح البخاری: عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:(تنكح المرأة لأربع: لمالها ولحسبها وجمالها ولدينها، فاظفر بذات الدين تربت يداك،( باب: الأكفاء في الدين،ج: 5،ص: 1958،رقم الحدیث: 4802،مط: دار ابن کثیر)
و فی ردالمحتار: وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة اھ( كتاب النكاح، فروع طلق امرأته تطليقتين،ج: 3،ص: 46،مط: دار الفکر بیروت)
و فی البدائع: ومنها أن لا تكون المرأة مشركة إذا كان الرجل مسلما، فلا يجوز للمسلم أن ينكح المشركة؛ لقوله تعالى: {ولا تنكحوا المشركات حتى يؤمن} (البقرة: 221)اھ (كتاب النكاح، ج: 2،ص: 270،مط: دار الکتب العلمیہ)
و فیه ایضاً: أن الأصل أن لا يجوز للمسلم أن ينكح الكافرة؛ لأن ازدواج الكافرة والمخالطة معها مع قيام العداوة الدينية لا يحصل السكن والمودة الذي هو قوام مقاصد النكاح اھ( كتاب النكاح،ج: 2،ص: 270،مط: دار الکتب العلمیہ)