اگر قاضی ایجاب کے دوران لڑکی کے والد کا نام بھول جائے تو کیا حکم ہے؟
اگر نکاح پڑھاتے وقت لڑکی خود یا اس کا ولی موجود ہو اور گواہان بھی ذاتی طور پر اس لڑکی کو جانتے ہوں کہ جس کا نکاح کرنا مقصود ہے تو ایسی صورت میں نکاح پڑھانے والے سے اگر لڑکی کے باپ کا نام لینا بھول سے رہ بھی جائے تو اس سے نکاح کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ نکاح درست منعقد ہو جاتا ہے۔
کما فی الدر المختار: غلط وكيلها بالنكاح في اسم أبيها بغير حضورها لم يصح) للجهالة وكذا لو غلط في اسم بنته إلا إذا كانت حاضرة وأشار إليها فيصح الخ(کتاب النکاح،ج:3،ص:26،مط:ایچ ایم سعید)
وفی الرد تحت قوله: لم يصح) لأن الغائبة يشترط ذكر اسمها واسم أبيها وجدها، وتقدم أنه إذا عرفها الشهود يكفي ذكر اسمها فقط الخ( کتاب النکاح،ج:3،ص:26،مط:ایچ ایم سعید)