میں ایک مدرسے کا طالب علم ہوں ، مجھے بعض رشتہ دار وغیرہ کچھ زکات یا نفلی صدقہ کی رقم دیتے ہیں کہ میں اپنے مدرسے میں جس طالب علم کو بھی ضرورت ہو، دے دوں، اور اس میں مجھے بالکل اختیار دیا جاتا ہے کہ جسکو بھی چاہوں، دے دوں ، اب سوال یہ ہے کہ بعض دفعہ مجھے خود بھی ضرورت ہوتی ہے، تو کیا میں خود بھی اس میں سے بقدر ضرورت لے سکتا ہوں، اس بارے میں رہنمائی فرمادیں ۔
واضح ہو کہ جس آدمی کو زکوۃ یا صدقہ کی ادائیگی کے لیے وکیل بنایا جائے،تو اس کے لیے اس مال کو اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں، البتہ اگر زکاۃوصدقہ دینے والا شخص وکیل کومذکور رقم پرمکمل اختیار دیدے اور کہے کہ "جہاں مناسب سمجھو خرچ کر دو"،تو اس صورت میں اگر وکیل خود زکاۃ کا مستحق ہو تو وہ اس رقم کو اپنے استعمال میں بھی لا سکتا ہے، لہٰذاصورت مسئولہ میں مؤکل نے اگر سائل کو وکیل بناتے وقت مکمل اختیار دیدیاہوکہ سائل اپنی مرضی ومنشاء سے جہاں چاہے رقم خرچ کرے ، توایسی صورت میں سائل کے لیےمستحق زکاۃ ہونے کی صورت میں اس رقم کواپنے استعمال میں لانے کی گنجائش ہے،اوراس سےمؤکل کی زکاۃ وصدقہ درست ادا ہوجائے گا۔
کمافی الدرالمختار: ولو خلط زكاة موكليه ضمن وكان متبرعا إلا إذا وكله الفقراء وللوكيل أن يدفع لولده الفقير وزوجته لا لنفسه إلا إذا قال ربها ضعها حيث شئت اھ(كتاب الزكاة، ج:2، ص:269، م:سعيد)
وفیه ایضاً: وبهذا التعليل يقوى ما نسب للواقعات من أن طالب العلم يجوز له أخذ الزكاة ولو غنيا إذا فرغ نفسه لإفادة العلم واستفادته لعجزه عن الكسب والحاجة داعية إلى ما لا بد منه كذا ذكره المصنف اھ۔
وفی الشامیۃ: قلت: ورأيته في جامع الفتاوى ونصه وفي المبسوط: لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا إلا إلى طالب العلم والغازي ومنقطع الحج لقوله عليه الصلاة والسلام يجوز دفع الزكاة لطالب العلم وإن كان له نفقة أربعين سنة اهـ (باب المصرف، ج:2، ص:340، م:سعید)
وفي بدائع الصنائع: لأن الوكيل يتصرف بولاية مستفادة من قبل الموكل فيملك قدر ما أفاده، ولا يثبت العموم إلا بلفظ يدل عليه، وهو قوله: اعمل فيه برأيك وغير ذلك مما يدل على العموم اھ(فصل في بيان حكم التوكيل، ج:6، ص:28، م:سعيد)
و فی البحرالرائق: وفي الظهيرية: رجل دفع زكاة ماله إلى رجل وأمره بالأداء فأعطى الوكيل ولد نفسه الكبير أو الصغير أو امرأته وهم محاويج جاز، ولا يمسك لنفسه شيئا، ولو أن صاحب المال قال له: ضعه حيث شئت له أن يمسك لنفسه اھ (شروط أداء الزكاة، ج:2، ص:211، م:رشیدیہ)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0