مصارف زکوۃ و صدقات

مدرسہ میں زکوۃ کی رقم خرچ کرنے کا طریقہ

فتوی نمبر :
93174
| تاریخ :
2026-03-12
عبادات / زکوۃ و صدقات / مصارف زکوۃ و صدقات

مدرسہ میں زکوۃ کی رقم خرچ کرنے کا طریقہ

میں ایک مدرسے میں بطورِ منتظم یا نائب مہتمم کام کرتا ہوں اور مجھے مکمل اختیارات دیے گئے ہیں۔ مہتمم صاحب ایک غیر عالم متدین آدمی ہیں۔ وہ ماہانہ مدرسے کے اخراجات کی مد میں مجھے زکوٰۃ کی رقم دیتے ہیں جس سے میں مدرسے کے اخراجات پورے کرتا ہوں، جبکہ ہمارے مدرسے میں پڑھنے والے طلبہ نابالغ ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس زکوٰۃ کو مدرسے کے اخراجات میں استعمال کرنے کا شرعی طریقہ کیا ہے؟ کیا میں خود اسے قبول کر کے مدرسے کے کاموں میں لگا سکتا ہوں؟ (جبکہ میں مدرسے سے کوئی تنخواہ بھی نہیں لیتا)۔ یا پھر کیا میں مدرسے کے نابالغ بچوں کی طرف سے بطورِ وکیل اسے قبول کر سکتا ہوں؟ جواب دے کر ممنون فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً کثیراً۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ زکوٰۃ کی رقم کسی مستحقِ زکاۃ شخص کو بلا کسی عوض باقاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ حوالے کرنا لازم اور ضروری ہے اس کے بغیر شرعاً زکوۃ ادا نہ ہوگی ۔ لہذا سائل کے لئے بغیر کسی تملیک کے زکوٰۃ کی رقم مدرسے کی دیگر اخراجات میں لگانا شرعاً جائز نہیں ، تاہم اگر سائل زکوٰۃ کی رقم عاقل و بالغ اور مستحقِ زکوٰۃ طلباء کو باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ حوالے کردے، پھر وہ طلباء بغیر کسی دباؤ کے اپنی مرضی سے مدرسے کے اخراجات کے لئے وہ رقم سائل کے حوالے کردیں یا مدرسے کی طرف سے واقعی مقررہ فیس کی مد میں ان سے وہ رقم وصول کی جائے ، یا ابتداءً داخلے کے وقت عاقل و بالغ اور مستحقِ زکوٰۃ طلباء کرام اور ناسمجھ طلباء کرام سے زکوٰۃ وصول کرنے اور مدرسے کے اخراجات میں صرف کرنے کی اجازت لی جائے تو ایسی صورت میں زکوٰۃ کی رقم مدرسے کے اخراجات میں خرچ کرنا جائز اور درست ہوگا ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی اعلاء السنن: وهذا عين ما قاله الشيخ في مسألة التعيين في الزكاة: إنه قد يكون قصد الموكل إيصال النفع إلى معين (لقرابة، أو صدقة، أو زهد، أو حاجة) مع سقوط الواجب اهـ فلا يجوز للوكيل الدفع إلى غيره، فحمدت الله على الموافقة فلا يجوز لأهل المدارس دفع ما جاءهم من الصدقات باسم المدرسة إلى من لا علاقة له بها، أو باسم الطلبة إلى من ليس هو منهم فليحفظ ذلك، ظ.اھ(باب إذا قال الموكل للوكيل: أعط فلانًا شيئًاأو قال: اقضه حقه وزده، يحمل على المتعارف،ج:15،ص:333،ط:دار القرآن و العلوم الاسلامیۃ)
و في المحيط البرهاني في الفقه النعماني : والحيلة لمن أراد ذلك أن يتصدق بمقدار زكاته على فقير ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه فيكون لصاحب المال ثواب الصدقة ولذلك الفقير ثواب هذه القرب ۔اھ(كتاب الزكاة ، الفصل الثامن من المسائل المتعلقة بمن توضع الزكاة فيه ، ج ٢ . ص 282، ط : دار الكتب العلمية ، بيروت)-
و في الدر المختار : وقدمنا أن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء ، و هل له أنه يخالف أمرہ لم أره والظاهر نعم۔اھ ( باب المصرف ، ج ۲، ص ٣٤٥ ، ط : سعید)-
و في رد المحتار تحت ( قوله أن الحيلة) أي الدفع إلى هذه الأشياء مع صحة الزكاة ( قوله ثم يأمره ) و يكون له ثواب الزكاة والفقير ثواب هذه القرب۔ الخ ( باب المصرف ، ج ٢ ، ص ٣٤٥ ، ط : سعيد)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد جنید رفیض الدین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93174کی تصدیق کریں
0     15
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات