کاروبار

قسطوں کے کاروبار میں اضافی رقم لینے کا حکم

فتوی نمبر :
93219
| تاریخ :
2026-03-13
معاملات / مالی معاوضات / کاروبار

قسطوں کے کاروبار میں اضافی رقم لینے کا حکم

ہم پنجاب میں کار وبار کرتے ہیں قسطوں کا ایک سال کے ادھار پر، دس روپے کی چیز 20 سے 25 پر بیچتے ہیں، اور اس میں کچھ بندے ہمارے پیسے کھا بھی لیتے ہیں،اور کچھ بندے ہمیں تنگ کرتے ہیں ،ان کو پھر ہم بھی تنگ کرتے ہیں، ان کے دروازے پر بیٹھ جاتے ہیں اور بدتمیزی ہم بھی کرتے ہیں اور وہ بھی

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں سائل کانقد کے مقابلہ میں ادھار قسطوں کی وجہ سے سستی چیز مہنگی داموں میں فروخت کرنا تو درست ہے، بشرطیکہ ادھار کی کل مدت اور ہر قسط کی مالیت بھی طے لی جائے، اور کسی قسط کی تاخیر کی وجہ سے کوئی مالی جرمانہ بھی وصول نہ کیا جائے، البتہ بعض کسٹمرز کا قدرت اور وسعت کے باوجود پیسوں کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لینا تو شرعاً ناجائز اور ظلم ہے، جس سے انہیں احتراز لازم ہے،تاہم اس معاملہ میں سائل کو لڑائی جھگڑے سے بچتے ہوئے حکمت و مصلحت اور وسعت ظرفی کا مظاہرہ کرتےہوئے احسن طریقہ سے پیسوں کا مطالبہ کرنا چاہئے، جبکہ بوقت ضرورت اپنے حق کے وصولی کی خاطر قانونی چارہ جوئی بھی کی جاسکتی ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما رویٰ البخاری بسندہ:«عن همام بن منبه، أخي وهب بن منبه: أنه سمع أبا هريرة رضي الله عنه يقول:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (مطل الغني ظلم).(کتاب الاستقراض واداء الدیون،باب مطل الغنی ظلم،ج:2،ص:845،ط:دار ابن الکثیر)
وفیہ ایضاً تعلیقاً:ويذكر عن النبي صلى الله عليه وسلم: (لي الواجد يحل عقوبته وعرضه)(کتاب الاستقراض، باب لصاحب الحق مقال، ج:2،ص:846،ط:دارابن الکثیر)
و فی المبسوط للسرخسی:وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع و مطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية و هذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد."(کتاب البیوع، باب البیوع الفاسدة ج : 7 ص : 13 ط : دارالمعرفة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالصمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93219کی تصدیق کریں
0     4
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • ڈراپ شپنگ کا حکم - is Drop Shiping Halal in Islam

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 3
  • پرپال آن لائن کمپنی کا شرعی حکم - PrPal Earning in Islam

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 0
  • فاریکس کا کاروبار کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 1
  • ایڈورٹائزمنٹ کمپنی میں انوسٹمنٹ کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 1
  • گوہرشاہی والوں کی پروڈکٹ کی خریدفروخت

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 0
  • ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر ٹیکسی چلانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   کاروبار 0
  • StreamKar ایپ پر لائیوآنے اورکمائی کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   کاروبار 1
  • کاروبار کی نیت سے پرندوں کی خرید و فروخت اور بریڈنگ

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   کاروبار 1
  • سردی میں خریدے ہوئے پنکھے گرمی میں مہنگے داموں فروخت کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 0
  • ویڈیوگیمزکی آمدنی کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   کاروبار 0
  • حرام مال سے کاروبار کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • پے رول( payroll financing ) فائنانسنگ کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • الیکٹرونکس آلات ٹی وی،ایل سی ڈٰی وغیرہ بیچنے کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • قسطوں پر خرید و فروخت کا درست طریقہ کار

    یونیکوڈ   کاروبار 1
  • آن لائن اپلیکیشن(IDA App)کے ذریعے کاروبار کرکے پیسے کمانا

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • حکیم کا انگریزی دوا پیس کر مریض کو دینا

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • بائنانس ایپ کے ذریعہ کاروبار کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • قادیانی کو کپڑے فروخت کرنا

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • اسٹاک ایکسچینج کے ذریعہ ، شیئرز کی خرید و فروخت

    یونیکوڈ   کاروبار 2
  • مروّجہ اسلامی بینکوں کے ساتھ معاملات کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • سگریٹ اور نسوار کاکا روبارکرنا

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • بیع عینہ کی تعریف اور اس کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 2
  • کرپٹو کرنسی میں فیوچر ٹریڈنگ کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 2
  • تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • تکافل اور انشورنس میں فرق

    یونیکوڈ   کاروبار 1
Related Topics متعلقه موضوعات