ہم پنجاب میں کار وبار کرتے ہیں قسطوں کا ایک سال کے ادھار پر، دس روپے کی چیز 20 سے 25 پر بیچتے ہیں، اور اس میں کچھ بندے ہمارے پیسے کھا بھی لیتے ہیں،اور کچھ بندے ہمیں تنگ کرتے ہیں ،ان کو پھر ہم بھی تنگ کرتے ہیں، ان کے دروازے پر بیٹھ جاتے ہیں اور بدتمیزی ہم بھی کرتے ہیں اور وہ بھی
صورت مسئولہ میں سائل کانقد کے مقابلہ میں ادھار قسطوں کی وجہ سے سستی چیز مہنگی داموں میں فروخت کرنا تو درست ہے، بشرطیکہ ادھار کی کل مدت اور ہر قسط کی مالیت بھی طے لی جائے، اور کسی قسط کی تاخیر کی وجہ سے کوئی مالی جرمانہ بھی وصول نہ کیا جائے، البتہ بعض کسٹمرز کا قدرت اور وسعت کے باوجود پیسوں کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لینا تو شرعاً ناجائز اور ظلم ہے، جس سے انہیں احتراز لازم ہے،تاہم اس معاملہ میں سائل کو لڑائی جھگڑے سے بچتے ہوئے حکمت و مصلحت اور وسعت ظرفی کا مظاہرہ کرتےہوئے احسن طریقہ سے پیسوں کا مطالبہ کرنا چاہئے، جبکہ بوقت ضرورت اپنے حق کے وصولی کی خاطر قانونی چارہ جوئی بھی کی جاسکتی ہے ۔
کما رویٰ البخاری بسندہ:«عن همام بن منبه، أخي وهب بن منبه: أنه سمع أبا هريرة رضي الله عنه يقول:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (مطل الغني ظلم).(کتاب الاستقراض واداء الدیون،باب مطل الغنی ظلم،ج:2،ص:845،ط:دار ابن الکثیر)
وفیہ ایضاً تعلیقاً:ويذكر عن النبي صلى الله عليه وسلم: (لي الواجد يحل عقوبته وعرضه)(کتاب الاستقراض، باب لصاحب الحق مقال، ج:2،ص:846،ط:دارابن الکثیر)
و فی المبسوط للسرخسی:وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع و مطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية و هذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد."(کتاب البیوع، باب البیوع الفاسدة ج : 7 ص : 13 ط : دارالمعرفة)
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0