نکاح

مسلمان عوت کا ہندو مرد سے کئے ہوئے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
93265
| تاریخ :
2026-03-15
معاملات / احکام نکاح / نکاح

مسلمان عوت کا ہندو مرد سے کئے ہوئے نکاح کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محترم مفتی صاحب / علمائے کرام،ایک اہم اور حساس شرعی مسئلے کے حوالے سے آپ کی رہنمائی درکار ہے۔ایک مسلمان عورت (جو یورپ میں رہتی ہیں) نے تین سال قبل ایک غیر مسلم مرد(ہندو) سے شادی کی تھی۔ اب ان کی شادی شدہ زندگی کافی مسائل کا شکار ہے اور شوہر اس عورت کو آزادی کے ساتھ اپنے مذہب پر عمل کرنے سے روکتا ہے۔ شوہر اسے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی رمضان کے روزے رکھنے دیتا ہے، بلکہ ان عبادات پر سختی سے پابندی لگاتا ہے۔ یہ صورتحال اس عورت کے لیے شدید ذہنی اذیت اور دباؤ کا باعث بن رہی ہے اور وہ جاننا چاہتی ہے کہ ان حالات میں اس کے لیے شرعی حکم کیا ہے۔اس صورتحال کے پیشِ نظر براہِ کرم درج ذیل سوالات کے تفصیلی اور واضح شرعی جوابات عنایت فرمائیں:شادی کی حیثیت: شریعت کی رو سے ایک مسلمان عورت اور غیر مسلم مرد کے درمیان ہونے والا یہ نکاح کیا شروع سے ہی جائز اور درست تھا یا نہیں؟کفارہ اور توبہ: اگر یہ نکاح شرعاً باطل یا ناجائز تھا، تو اس عورت پر کیا کفارہ لازم آتا ہے اور سچی توبہ کا کیا طریقہ ہوگا؟علیحدگی اور عدت: اس مخصوص صورتحال میں علیحدگی کا کیا طریقہ کار ہوگا اور عدت کے حوالے سے کیا احکامات لاگو ہوں گے؟فوری اقدامات: اس عورت کو مزید گناہ سے بچنے کے لیے شریعت کے مطابق فوراً کیا عملی قدم اٹھانا چاہیے؟حقوق اور راستے: اس مشکل اور دباؤ والی صورتحال میں اس عورت کے پاس اسلامی شریعت کی رو سے کیا راستے اور حقوق موجود ہیں؟قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما کر مشکور فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کسی مسلمان عورت کا ہندو سمیت کسی بھی غیر مسلم سے نکاح شرعاً جائز نہیں بلکہ باطل ہے ، اور اگر کسی نے اس طرح نکاح کر بھی لیا تو یہ نکاح شرعاً منعقد ہی نہیں ہوتا ،لہذا صورت مسئولہ میں مذکور خاتون کا نکاح شروع ہی سے اس ہندو مرد کیساتھ منعقد ہی نہیں ہوا ، بلکہ یہ نکاح باطل ہے،نکاح منعقد نہ ہونے کے باوجود مذکور عورت کا اس غیر مسلم کیساتھ تین سال میاں بیوی کے تعلق میں رہنا انتہائی سنگین گناہ ہے جس پر اس کو اب سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے توبہ اور استغفار ،اور اس مرد سے فی الفور علیحدگی اختیار کرنا لازم ہے ، نیز اس پر لازم ہے کہ وہ اس مرد کو اپنے اوپر کسی قسم کی قدرت اس کو نہ دے،اور اگر وہ زبردستی کرنے کی کوشش کرے تو عورت کو چاہئیے کہ وہ عدالت سے رجوع کر کے قانوناً بھی اس عقد سے خود کو آزاد کردے ،نیز ایسی صورت اس قانونی کارروائی کے تکمیل کے دورانیہ میں بھی مذکور عورت پر اس شخص سے علیحدہ رہنا ضروری ہوگا،بہر دو صورت اس شخص سے آزادی حاصل کرنے کے بعد عورت پر اس عقد کی وجہ سے عدت کے احکام لازم نہ ہوں گے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالیٰ: ﴿لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ)(الممتحنة: ١٠)
و فی البدائع: ومنها: ‌إسلام ‌الرجل إذا كانت المرأة مسلمة فلا يجوز إنكاح المؤمنة الكافر؛ لقوله تعالى: {ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا} ولأن في إنكاح المؤمنة الكافر خوف وقوع المؤمنة في الكفر؛ لأن الزوج يدعوها إلى دينه، والنساء في العادات يتبعن الرجال فيما يؤثرون من الأفعال ويقلدونهم في الدين إليه وقعت الإشارة في آخر الآية بقوله عز وجل:{أولئك يدعون إلى النار}؛ لأنهم يدعون المؤمنات إلى الكفر، والدعاء إلى الكفر دعاء إلى النار؛ لأن الكفر يوجب النار، فكان نكاح الكافر المسلمة سببا داعيا إلى الحرام فكان حراما، والنص وإن ورد في المشركين لكن العلة، وهي الدعاء إلى النار يعم الكفرة، أجمع فيتعمم الحكم بعموم العلة فلا يجوز إنكاح المسلمة الكتابي كما لا يجوز إنكاحها الوثني والمجوسي؛ لأن الشرع قطع ولاية الكافرين عن المؤمنين بقوله تعالى:{ولن يجعل الله للكافرين على المؤمنين سبيلا}فلو جاز إنكاح الكافر المؤمنة لثبت له عليها سبيل، وهذا لا يجوز،اھ(ج: 2،ص: 271،مط: دار الکتب العلمیہ)
و فی ردالمحتار: نكح كافر مسلمة فولدت منه لا يثبت النسب منه ولا تجب العدة لأنه نكاح باطل اهـ. وهذا صريح فيقدم على المفهوم فافهم، ومقتضاه الفرق بين الفاسد والباطل في النكاح، لكن في الفتح قبيل التكلم على نكاح المتعة. أنه لا فرق بينهما في النكاح، بخلاف البيع، نعم في البزازية حكاية قولين في أن نكاح المحارم باطل أو فاسد. والظاهر أن المراد بالباطل ما وجوده كعدمه، ولذا لا يثبت النسب ولا العدة في نكاح المحارم أيضا كما يعلم مما سيأتي في الحدود،اھ(كتاب النكاح،مطلب في النكاح الفاسد،ج: 3،ص: 132،مط: دار الفکر)
و فیہ ایضاً: أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا. قال: فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله في العدة، ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لأنه زنى كما في القنية وغيرها،والحاصل أنه لا فرق بينهما في غير العدة، أما فيها فالفرق ثابت،اھ(كتاب النكاح،مطلب في النكاح الفاسد،ج: 3،ص: 132،مط: دار الفکر)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید قدرت اللہ یار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93265کی تصدیق کریں
0     17
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات