السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب ! ایک اہم مسئلہ معلوم کرنا ہے کہ میری بہن کانکاح ہوا ہے ، اور ایجاب و قبول کے وقت لڑکی کے اصل والد کی جگہ منہ بولے باپ کا نام لیاگیا ، اور لڑکی بذات خود نکاح کی مجلس میں موجود نہیں تھی، بلکہ انکی طرف سے وکیل تھے، اور نکاح نامے میں لڑکی نے دستخط کیے ہیں ، لیکن ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی ، معلوم کرنا تھا کہ نکاح دوبارہ کرنا ہوگا یا نہیں ؟جزاکم اللہ
واضح ہو کہ نکاح کے وقت مجلس نکاح میں اگردلہن خود موجودنہ ہو،مگر گواہوں کو علم ہو کہ فلاں بچی جوکہ فلاں کی بیٹی ہے،کا نکاح ہورہا ہے، تو ایسی صورت میں ایجاب وقبول کرتے ہوئے منکوحہ کی ولدیت کا ذکر کرنا ضروری نہیں، بلکہ فقط منکوحہ کا نام لینا بھی کافی ہوجاتا ہے،لہذا صورت مسئولہ میں سائل کی بہن نکاح کے وقت اگرچہ مجلس نکاح میں موجود نہ تھی،مگر گواہوں کو معلوم تھا کہ سائل کی بہن مسماۃ فلاں کے بارے میں یہ ایجاب وقبول کیا جارہا ہے، تو نکاح کے وقت حقیقی والد کا نام لئے بغیر منکوحہ کے نام کے ساتھ منہ بولے والد کا نام لےکر ایجاب وقبول کرنے سے بھی یہ نکاح شرعاً درست منعقد ہوچکا ہے، اس لئے بلا وجہ شکوک وشبھات میں پڑنے سے احتراز چاہئے، البتہ اگر اس غلط اندراج کی وجہ سے آئندہ قانونی یا دستاویزی پیچیدگی کا اندیشہ ہو تو نکاح نامہ کی اصلاح یا متعلقہ ریکارڈ کی درستی کروا لینا مناسب ہے۔
کما فی الدر المختار: غلط وكيلها بالنكاح في اسم أبيها بغير حضورها لم يصح) للجهالة وكذا لو غلط في اسم بنته إلا إذا كانت حاضرة وأشار إليها فيصح الخ
وفی رد المحتار تحت قوله: لم يصح) لأن الغائبة يشترط ذكر اسمها واسم أبيها وجدها، وتقدم أنه إذا عرفها الشهود يكفي ذكر اسمها فقط الخ( کتاب النکاح،ج:٣،ص:٢٦،مط:ایچ ایم سعید)
وفیہ ایضاً: ولا بد من تمييز المنكوحة عند الشاهدين لتنتفي الجهالة، فإن كانت حاضرة منتقبة كفى الإشارة إليها والاحتياط كشف وجهها (الیٰ قولہ) «قال في البحر: وإن كانت غائبة ولم يسمعوا كلامها بأن عقد لها وكيلها فإن كان الشهود يعرفونها كفى ذكر اسمها إذا علموا أنه أرادها، وإن لم يعرفوها لا بد من ذكر اسمها واسم أبيها وجدها.(الی قولہ)والحاصل أن الغائبة لا بد من ذكر اسمها واسم أبيها وجدها، وإن كانت معروفة عند الشهود على قول ابن الفضل، وعلى قول غيره يكفي ذكر اسمها إن كانت معروفة عندهم، وإلا فلا وبه جزم صاحب الهداية في التجنيس وقال لأن المقصود من التسمية التعريف وقد حصل وأقره في الفتح والبحر. وعلى قول الخصاف يكفي مطلقا، ولا يخفى أنه إذا كان الشهود كثيرين لا يلزم معرفة الكل بل إذا ذكر اسمها وعرفها اثنان منهم كفى والظاهر أن المراد بالمعرفة أن يعرفها أن المعقود عليها هي فلانة بنت فلان الفلاني لا معرفة شخصها، وإن ذكر الاسم غير شرط، بل المراد الاسم أو ما يعينها مما يقوم مقامه لما في البحر الخ(کتاب النکاح،ج:٣،ص:٢١/٢٢ ،مط:ایچ ایم سعید)
وفی الہندیۃ: «وإن كانت حاضرة متنقبة ولا يعرفها الشهود؛ جاز النكاح وهو الصحيح وإن أراد الاحتياط يكشف وجهها حتى يراها الشهود أو يذكر اسمها واسم أبيها وجدها ولو كان الشهود يعرفونها وهي غائبة فذكر الزوج اسمها لا غير وعرف الشهود أنه أراد به المرأة التي يعرفونها جاز النكاح، كذا في محيط السرخسي.(کتاب النکاح، الباب الأول في تفسير النكاح شرعاً وصفته، ج: ١، ص: ٢٦٨، مط: ماجدية)