نکاح

اولیاء سے چھپ کر کیے ہوئے نکاح کی ایک صورت کا حکم

فتوی نمبر :
93359
| تاریخ :
2026-03-18
معاملات / احکام نکاح / نکاح

اولیاء سے چھپ کر کیے ہوئے نکاح کی ایک صورت کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے، میں آپ سے فقہِ حنفی کی روشنی میں ایک نکاح کی شرعی حیثیت کے بارے میں رہنمائی چاہتا ہوں، یہ نکاح خفیہ طور پر کیا گیا ہے، اور اس میں لڑکی کے ولی (والد) کی اجازت یا ان سے مشورہ نہیں کیا گیا، مزید یہ کہ نکاح کے وقت مہر ادا نہیں کیا گیا، اور جو گواہ نکاح کے وقت موجود تھے، وہ لڑکے اور لڑکی دونوں کے لئے بالکل اجنبی تھے، اس کے علاوہ اس نکاح کا کسی بھی سرکاری دفتر یا ادارے میں نہ تو کوئی اندراج (رجسٹریشن) ہے اور نہ ہی کوئی سرکاری ریکارڈ موجود ہے، ان تمام امور کو مدنظر رکھتے ہوئے دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ فقہِ حنفی کے مطابق کیا یہ نکاح شرعاً صحیح اور معتبر ہے یا نہیں؟ براہِ کرم اس مسئلے کے متعلق شرعی رہنمائی اور فتویٰ عنایت فرمائیں، تاکہ ہمیں صحیح حکم معلوم ہو سکے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ عاقل بالغ لڑکا لڑکی کا اپنے والدین اور قریبی اولیاء کی اجازت کے بغیر چھپ کر نکاح کرنا معزز خاندانوں میں سخت معیوب سمجھا جاتا ہے، اور عموماً اس طرح کانکاح چونکہ والدین کی دعاؤں سے خالی ہوتا ہے، اس لئے اکثر اوقات نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے، لہذا مذکور لڑکا لڑکی کا اپنے اولیاء کی اجازت ورضامندی کے بغیر کورٹ میرج کرلینا انتہائی نامناسب طرز عمل تھا، جس پر انہیں اپنے والدین سے معافی مانگنی چاہیئے ،تاہم اگر یہ نکاح باقاعدہ شرعی گواہوں کی موجودگی میں مہر مثل کے ساتھ ہوا ہو، اور لڑکا لڑکی کا کفؤ (ہم پلہ) ہو، تو شرعاً یہ نکاح درست منعقد ہوچکا ہے، اگر چہ قانونی طور پر نکاح کے کاغذات وغیرہ نہ بنائےگئےہوں، نیز شوہر پر مہر کی ادائیگی بھی لازم ہے، تاہم لڑکا لڑکی دونوں کو چاہئیے کہ والدین کے علم میں لاکر ان کی اجازت ورضامندی اور ان کی دعاؤں سے رخصتی کی صورت نکالی جائے، تاکہ آگے کی زندگی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو اور دونوں میاں بیوی خوش وخرم زندگی بسر کرسکیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدرالمختار : فنفذ نکاح حرۃ مکفۃ بلا رضا (ولی) و الاصل ان کل من تصرف فی مالہ تصرف فی نفسہ۔(3/56 کتاب النکاح ط: سعید)۔
وفی فتح القدیر: و ینعقد نکاح الحرۃ العاقلۃ البالغۃ برضاھا و ان لم یعقد علیھا ولی بکراً او ثیبا (الی قولہ) انہ لایجوز فی غیر الکفوء۔(3/157کتاب النکاح)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حمزہ منان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93359کی تصدیق کریں
0     3
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات