نکاح

لڑکے کا والدین کی مرضی کے خلاف شادی کرنا

فتوی نمبر :
93369
| تاریخ :
2026-03-18
معاملات / احکام نکاح / نکاح

لڑکے کا والدین کی مرضی کے خلاف شادی کرنا

السلام علیکم مفتی صاحب
ایک شرعی مسئلے کے بارے میں رہنمائی درکار ہے۔ایک لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور نکاح کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لڑکی کے گھر والے اس رشتے پر مکمل طور پر راضی ہیں، لیکن لڑکے کے والدین سخت مخالفت کر رہے ہیں۔والدین کی ناراضگی کی اصل وجہ یہ ہے کہ انہیں معلوم ہوا کہ لڑکا اور لڑکی نکاح سے قبل آپس میں میسجز (Texting) پر بات چیت کرتے رہے ہیں، جسے وہ اخلاقی طور پر غلط سمجھتے ہیں۔ لڑکا اور لڑکی اپنی اس غلطی پر نادم ہیں، اللہ سے توبہ کر چکے ہیں اور اب ہر قسم کا رابطہ ختم کر کے صرف نکاح کے ذریعے اس تعلق کو حلال کرنا چاہتے ہیں۔ اس یقین دہانی کے باوجود لڑکے کے گھر والے راضی نہیں ہو رہے۔
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں:
۱. کیا نکاح سے قبل بات چیت کی غلطی اور پھر اس پر سچی توبہ کر لینے کے بعد بھی والدین کا محض اسی بنیاد پر نکاح سے روکنا شرعی طور پر درست ہے؟
۲. اگر لڑکا اپنی اصلاح کر چکا ہو اور لڑکی کے گھر والے بھی راضی ہوں، تو کیا لڑکا والدین کی مرضی کے بغیر نکاح کر سکتا ہے؟
۳. کیا ایسا نکاح شرعاً منعقد ہو جائے گا اور کیا یہ والدین کی نافرمانی شمار ہوگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کو چاہیئے کہ اپنے والدین کو خود یا خاندان کے بڑوں کے ذریعے اس رشتے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے۔ مذکور رشتے میں اگر کوئی شرعی یا اخلاقی خرابی نہ ہو تو والدین کو بلاوجہ اس رشتے سے انکار نہیں کرنا چاہئیے۔ لیکن اگر مذکور رشتہ میں شرعی یا اخلاقی خرابی کی وجہ سے والدین منع کر رہے ہوں تو سائل کو والدین کی اطاعت کرتے ہوئے اس رشتے کو ختم کرکے دوسری جگہ رشتے کا اہتمام کرنا چاہئیے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی تفسیر القرطبی: الرابعة- عقوق الوالدين: مخالفتهما في أغراضهما الجائزة لهما، كما أن برهما موافقتهما على أغراضهما الخ (سورۃ الاسراء:ج10ص:238 ط: دارالکتب المصریۃ)۔
و فی التفسیر المظہری:(مسئلة) لا يجوز إطاعة الوالدين إذا امرا بترك فريضة او إتيان مكروه تحريما لان ترك الامتثال لامر الله والامتثال لامر غيره اشراك معنى ولما روينا من قوله عليه السّلام لاطاعة للمخلوق فى معصية الخالق- ويجب إطاعتهما إذا امرا بشئ مباح لا يمنعه العقل والشرع.(سورۃ لقمان ج:7 ص:256 ط: مکتبۃ رشیدیۃ)۔
و فی التفسیرات الاحمدیۃ:اطاعتھما فی غیر المعاصی فواجب بقدر ما امکن الخ (الجزء:21 ص:606 ط: کوئتہ باکستان)۔
و فی تفسیر المظہری:يجب إطاعتهما إذا امرا بشئ مباح لا يمنعه العقل و الشرع الخ (ج:7 ص:256 ط: باکستان)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93369کی تصدیق کریں
0     17
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات