السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔
میں نکاح کے ایک معاملے میں شرعی رہنمائی حاصل کرنا چاہتا ہوں۔
ایک لڑکے اور ایک لڑکی کے درمیان رشتے کی بات چل رہی ہے، اور ہم یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ آیا یہ نکاح اسلامی شریعت کے مطابق جائز ہے یا نہیں۔
ان دونوں کے درمیان رشتہ اس طرح ہے:
لڑکی کے دادا (پدری دادا) کا ایک بھائی ہے۔ اس بھائی کا ایک بیٹا ہے، جو لڑکی کے لیے عرفاً چچا (یعنی خاندان کے بڑے ہونے کی وجہ سے چچا کہلاتا ہے، اگرچہ وہ حقیقی سگا چچا نہیں بلکہ دادا کے بھائی کا بیٹا ) ہے۔
اس چچا کی شادی ہو چکی ہے، اورمذکور لڑکا اسی چچا کی بیوی کا حقیقی سگا بھائی ہے۔
یعنی آسان الفاظ میں، یہ لڑکا لڑکی کے دادا کے بھائی کے بیٹے کی بیوی کا سگا بھائی ہے۔
لڑکے اور لڑکی کے درمیان کوئی براہِ راست نسبی (خونی) رشتہ موجود نہیں ہے، نہ ہی ان کے درمیان رضاعت (دودھ کا رشتہ) کا کوئی تعلق ہے۔
تاہم خاندان کے بعض افراد یہ کہہ رہے ہیں کہ چونکہ یہ ایک خاندانی تعلق ہے، اس لیے لڑکا لڑکی کا "ماموں" کے درجے میں آتا ہے، اور اسی وجہ سے وہ اس نکاح کے جائز یا ناجائز ہونے کے بارے میں تذبذب کا شکار ہیں۔
ہم درج ذیل امور کے بارے میں واضح شرعی رہنمائی چاہتے ہیں:
1. کیا یہ نکاح شریعت کی رو سے جائز (حلال) ہے؟
2. کیا اس نوعیت کا یہ بالواسطہ خاندانی تعلق ان رشتوں میں شامل ہوتا ہے جن سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام (محرم) ہوتا ہے؟
3. کیا اسلامی قانون (شریعت) میں کوئی ایسی وجہ موجود ہے جس کی بنا پر یہ نکاح ناجائز، باطل یا ناپسندیدہ قرار پائے؟
براہِ کرم قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً، آپ کے قیمتی وقت اور رہنمائی کا بہت شکریہ
سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق مذکور لڑکی اور لڑکے کے درمیان چونکہ محرمیت اور رضاعت کا کوئی رشتہ نہیں اس لئے محض بالواسطہ خاندانی تعلق کی وجہ سے دونوں کے درمیان نکاح نائز نہیں ہوگا،بلکہ شرعا یہ نکاح جائز اور درست ہے۔
کمافی الھدایۃ:
«ولا يجمع بين امرأتين لو كانت إحداهما رجلا لم يجز له أن يتزوج بالأخرى " لأن الجمع بينهما يفضي إلى القطيعة والقرابة المحرمة للنكاح محرمة للقطع ولو كانت المحرمية بينهما بسبب الرضاع يحرم لما روينا من قبل " ولا بأس بأن يجمع بين امرأة وبنت زوج كان لها من قبل " لأنه لا قرابة بينهما ولا رضاع وقال زفر رحمه الله لا يجوز لأن ابنة الزوج لو قدرتها ذكرا لا يجوز له التزوج بامرأة أبيه قلنا امرأة الأب لو صورتها ذكرا جاز له التزوج بهذه والشرط أن يصور ذلك من كل جانب.»(ج:1،ص:187،ط:داراحیاء التراث العربی،بیروت،لبنان)
وفی البدائع:
«ومنها أن تكون المرأة محللة وهي أن لا تكون محرمة على التأبيد فإن كانت محرمة على التأبيد فلا يجوز نكاحها؛ لأن الإنكاح إحلال، وإحلال المحرم على التأبيد محال والمحرمات على التأبيد ثلاثة أنواع:.
محرمات بالقرابة ومحرمات بالمصاهرة ومحرمات بالرضاع.»(الی قولہ)«وتحل له بنت العمة والخالة وبنت العم والخال؛ لأن الله تعالى ذكر المحرمات في آية التحريم ثم أخبر سبحانه وتعالى أنه أحل ما وراء ذلك بقوله: {وأحل لكم ما وراء ذلكم} [النساء: 24] وبنات الأعمام والعمات والأخوال والخالات لم يذكرن في المحرمات فكن مما وراء ذلك فكن محللات.
وكذا عمومات النكاح لا توجب الفصل ثم خص عنها المحرمات المذكورات في آية التحريم فبقي غيرهن تحت العموم، وقد ورد نص خاص في الباب، وهو قوله تعالى: {يا أيها النبي إنا أحللنا لك أزواجك} [الأحزاب: 50] إلى قوله عز وجل: {وبنات عمك وبنات عماتك وبنات خالك وبنات خالاتك اللاتي هاجرن معك} [الأحزاب: 50] الآية والأصل فيما يثبت للنبي صلى الله عليه وسلم أن يثبت لأمته، والخصوص بدليل - والله الموفق -(ج:2،ص:257،دارالکتب العلمیۃ)