نکاح

نکاح ہونے کے بعد لڑکے کے والد کا نکاح سے انکار کرنا

فتوی نمبر :
93710
| تاریخ :
2026-04-01
معاملات / احکام نکاح / نکاح

نکاح ہونے کے بعد لڑکے کے والد کا نکاح سے انکار کرنا

السلام علیکم ۔
میرا نکاح 13 فروری 2026 کو بڑی خوشی کے ساتھ ہوا۔ لڑکی بھی راضی تھی اس کے گھر والے بھی راضی تھی نکاح جیسے کوئی بارات تھی۔
قاضی صاحب نے پہلے لڑکی سے ایجاب قبول کروایا بعد ازاں مجھ سے بھی۔۔ نکاح میں موجود ایک معزز شخصیت ایک پیر و عالم صاحب بھی موجود تھے انہوں نے خطبہ بھی پڑھا اور لڑکی کی جگہ ان کے والد سے یہ بھی کہلوایا کہ میں نے اپنی بیٹی اس کے نکاح میں دی اور مجھ سے بھی کہا آپ کہیں قبول ہے۔۔ نکاح ہو گیا سب خوش مبارک باد ۔۔
نکاح کے ایک ہفتے بعد لڑکی کے والد قاضی کے پاس گئے کہ نکاح فارم دیں۔۔ قاضی نے کہا بچی کی عمر 4 مہینے 18 سال سے کم ہے اس لیے رجسٹریشن نہیں ہوگی تو جب عمر ہو جائے گی تب رجسٹریشن کروا دیں گے۔۔
اس بات پے لڑکی کے والد غصہ ہوگئے، قاضی کو کہا کہ تم نے پھر کیوں نکاح پڑھایا اور اس کے بعد میرے اوپر اور میرے والد پر بھی الزام لگایا کہ ہم نے ان کو دھوکہ دیا ہے قاضی کے ساتھ مل کر اور اس کو انہوں نے جعلی نکاح کا نام دیا اور قاضی کے پاس جا کہ اس نکاح کے فارم کو کینسل کروا کے یونین کونسل میں جمع بھی کروا دیا۔۔ قاضی نے اس کے اوپر لکھا کہ گھر سے شہادت موصول ہوئی کہ لڑکی نا بالغ ہے۔
بعد از اں ان سے بات کی وہ ڈیمانڈز پر آ گے یہ چیز دو گھر اور بنوا کر دو اور فلا شہر میں بنا کے دو۔
ہم نے بھی کہاکہ سب کچھ کر کے دیتے ہیں۔مگر نہیں مانے
اب لڑکی کے والد نے رشتہ بھی ختم کر دیا ہے اور وہ کہتے نکاح بھی ختم ہے نکاح تھا ہی نہیں جعلی نکاح تھا.
حق مہر کی رقم ہمارے ہاں رواج کے رخصتی کے وقت ادا کرتے ہیں اس لیے نکاح کے وقت ادا نہیں کی تھی ۔
لڑکی ابھی تک بھی راضی ہے اس کی امی بھی راضی ہے مگر لڑکی کے والد یہ ماننے کو تیار ہی نہیں وہ کہتے ہیں کہ جعلی نکاح تھا اور یہ نکاح ہوا ہی نہیں ۔
اب کیا ان کے کہنے سے یا ان کا جا کہ نکاح فام کینسل کرنے سے میرا نکاح ختم ہو گیا کیا؟
کیا اسلام کی روشنی میں میرا نکاح ختم ہو چکا ہے؟ برائے مہربانی میری اصلاح کریں اور علم کے مطابق مجھے اس کا صحیح جواب بتائیں
جزاک اللہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگرسائل کا بیان اگر واقعۃً حقیقت پر مبنی اور درست ہو اس طور پر کہ مذکورہ لڑکی کے والد نے اس کی رضامندی اور اجازت سے، اور شرعی طریقے کے مطابق نکاح کرالیا تھا ، تو سائل اور مذکورہ لڑکی کے درمیان نکاح شرعاً منعقد ہو چکا تھا۔ اور اب بھی برقررار ہے ،اس لیے نکاح ہو جانے کے بعد لڑکی کے والد کا نکاح فارم کینسل کرنے یا رشتہ ختم کرنے کے اعلان سےشرعاً سائل اور مذکورہ لڑکی کے درمیان قائم شدہ نکاح ختم یا فسخ نہیں ہو گا ، بلکہ نکاح حسبِ سابق برقرار رہے گا، چناچہ لڑکی کے والد پر لازم ہےکہ جب اس کی بیٹی راضی ہے تو محض ایک غلطی یا غلط فہمی کو بنیاد بنا کر بیٹی کا مستقبل خراب نہ کرے ،بلکہ اس کی خانہ آبادی کر کے مؤخذ ہ اخروی سے سبکدوشی کی فکر کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الہندیۃ : «لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، وإن ردته بطل، كذا في السراج الوهاج.» اھ ( وقت الدخول فی الصغیرۃ ،ج: 1 ص : 278 ناشر :المکتبۃ الکبری الامیریہ)
وفیہا ایضاً : «بلوغ الغلام بالاحتلام أو الإحبال أو الإنزال، والجارية بالاحتلام أو الحيض أو الحبل، كذا في المختار. والسن الذي يحكم ببلوغ الغلام والجارية إذا انتهيا إليه خمس عشرة سنة عند أبي يوسف ومحمد - رحمهما الله تعالى - وهو رواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وعليه الفتوى، وعند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - ثماني عشرة سنة للغلام وسبع عشرة سنة للجارية، كذا في الكافي.»اھ( الباب الثالث فی الحجر بسب الدین ،ج:5 ص: 61 ناشر : المکتبۃ الکبری الامیریہ)
وفی مجمع الانہر: «قال النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول بلفظين يعبر بهما عن الماضي،»الخ(کتاب النکاح ،ج:1 ص؛ 317 ناشر :دار الطبعۃ العامر)
وفی حاشیۃابن العابدین : «قال في الهداية: ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين إلخ»(کتا ب النکاح ج:3 ص: 23 ناشر سعید )
وفیہ ایضاً: «ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ (فإن استأذنها هو) أي الولي وهو السنة» الخ ( باب الولی ،ج:3 ص: 58 ناشر :سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد زکریا الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93710کی تصدیق کریں
0     50
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات