نکاح

رضاعت پرگواہ نہ ہونے کی صورت میں نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
93913
| تاریخ :
2026-04-07
معاملات / احکام نکاح / نکاح

رضاعت پرگواہ نہ ہونے کی صورت میں نکاح کا حکم

میری والدہ کہتی ہیں کہ مجھے ایک رشتہ دار خاتون نے دودھ پلایا تھا، اور میں اس خاتون کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں،میری والدہ کو مکمل یقین نہیں، لیکن ان کا غالب گمان ہے کہ ایسا ہوا تھا، اور وہ کہتی ہے کہ اگر یہ بات سچ نہ ہوتی تو وہ ایسا نہ کہتی،دوسری طرف اس لڑکی کی والدہ کہتی ہے کہ انہیں صحیح طرح یاد نہیں، شروع سے صرف میری والدہ ہی یہ کہتی رہی ہے کہ وہ لڑکی میری رضاعی بہن کی طرح ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ حرمتِ رضاعت کے ثبوت کے لیے بھی شرعی شہادت ضروری ہے۔ چنانچہ صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی والدہ کے علاوہ رضاعت پرکوئی اور گواہ موجود نہ ہو تو محض والدہ کا غالب گمان شرعاً حرمتِ رضاعت کے ثبوت کے لیے کافی نہیں ،چنانچہ اس کی وجہ سے حرمتِ رضاعت ثابت نہ ہوگی۔اورسائل اور مذکور لڑکی کا آپس میں نکاح کرنا شرعاً جائز ہوگا،تاہم اگر سائل کو والدہ کی بات پر اعتماد ہو یا یہ بات پہلے سے خاندان میں مشہور ہوتواحتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ وہ اس لڑکی سے نکاح نہ کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدرالمختار:الرضاع (حجته حجة المال) وهي شھادة عدلين أو عدل وعدلتان(الی قولہ) (وهل يتوقف ثبوته على دعوى المرأة؛ الظاهر لا) لتضمنھا حرمة الفرج وهي من حقوقه تعالى (كما في الشھادة بطلاقھا) إلخ۔
وفی الشامیۃ:تحت(قوله حجته إلخ) أي دليل إثباته وهذا عند الإنكار لأنه يثبت بالإقرار مع الإصرار كما مر (قوله وهي شھادة عدلين إلخ) أي من الرجال۔ وأفاد أنه لا يثبت بخبر الواحد امرأة كان أو رجلا قبل العقد أو بعده، وبه صرح في الكافي والنھاية تبعا، لما في رضاع الخانية: لو شھدت به امرأة قبل النكاح فھو في سعة من تكذيبھا، لكن في محرمات الخانية إن كان قبله والمخبر عدل ثقة لا يجوز النكاح، وإن بعده وهما كبيران فالأحوط التنزه وبه جزم البزازي معللا بأن الشك في الأول وقع في الجواز، وفي الثاني في البطلان والدفع أسھل من الدفع۔ ويوفق بحمل الأول على ما إذا لم تعلم عدالة المخبر أو على ما في المحيط من أن فيه روايتين، ومقتضاه أنه بعد العقد لا يعتبر اتفاقا، لكن نقل الزيلعي عن المغني وكراهية الھداية أن خبر الواحد مقبول في الرضاع الطارئ بأن كان تحته متغيرة فشھدت واحدة بأن أمه أو أخته أرضعتھا بعد العقد۔ قلت: ويشير إليه ما مر من قول الخانية وهما كبيران، لكن قال في البحر بعد ذلك: إن ظاهر المتون أنه لا يعمل به مطلقا، فليكن هو المعتمد في المذهب۔ قلت: وهو أيضا ظاهر كلام كافي الحاكم الذي هو جمع كتب ظاهر الرواية، وفرق بينه وبين قبول خبرالواحد بنجاسة الماء أو اللحم إلخ۔(باب الرضاع،ج:3،ص:224،ط:سعید)
وفی الھندیۃ: ولا يقبل في الرضاع إلا شھادة رجلين أو رجل وامرأتين عدول(إلی قولہ) وإن كان المخبر واحدا ووقع في قلبه أنه صادق فالأولى أن يتنزه ويأخذ بالثقة وجد الإخبار قبل العقد أو بعده ولا يجب عليه ذلك كذا في المحيط إلخ۔ (کتاب الرضاع،ج 1،ص:347، ط:دار الفکر)
وفی المبسوط للسرخسی: (قال:) ولايجوز شهادة امرأة واحدة على الرضاع أجنبيةً كانت أو أم أحد الزوجين، ولايفرق بينهما بقولها، ويسعه المقام معها حتى يشهد على ذلك رجلان أو رجل وامرأتان عدول، وهذاعندنا.(باب الرضاع،ج:5،ص:137،ط: دار الفکر)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالمجید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93913کی تصدیق کریں
0     9
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات