نکاح

بغیر گواہوں کے اللہ تعالی کو حاضر ناظر جان کر نکاح کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
93987
| تاریخ :
2026-04-09
معاملات / احکام نکاح / نکاح

بغیر گواہوں کے اللہ تعالی کو حاضر ناظر جان کر نکاح کرنے کا حکم

جناب محترم
السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ
جناب علی مسلہ یہ ہے کہ کیا لڑکا و لڑکی بلوغت کے بعد اچھی عمر پر خدا کو حاضر ناظر جان کر اگر ایک دوسرے کو قبول کر لیں تو کیا یہ رشتہ کوئی اہمیت رکھے گا ؟ کیا وہ حلال ہوگا؟ اگر ایسے رشتہ ہو سکتا ہے تو نکاح کی سند کا کیا ہو گا اور نان نفقہ؟
غرض باقی معاملات کیسے ہوں گے؟ بےشک وہ رہائش اور ضروریات کا اہتمام کرنے پر راضی ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نکاح کی صحت ودرستگی کے لئے دو عاقل ، بالغ ،مسلمان مرد یا ایک مرد دو عاقلہ بالغہ مسلمان عورتوں کا مجلس نکاح میں بطور گواہ کے موجود ہونا اور ان کے روبرو فریقین یا ان کی جانب سے مقرر کردہ وکیلوں کا ایجاب وقبول کرنا شرعاًضروری ہے اور اگر کسی نکاح میں مذکور امور نہ پائے جائیں تو شرعاً وہ نکاح منعقد نہیں ہوتا، لہذا صورت مسئولہ میں مذکور لڑکے اور لڑکی کا اللہ ، کو گواہ بنا کر باہم نکاح کرنے سے یہ نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوا ، اور اس نکاح کو بنیاد بنا کر دونوں کے لئے باہم بے تکلفی اختیار کرنا یا میاں بیوی والے تعلقات قائم کرنا بھی جائز نہیں ،بلکہ اس کے باوجود دونوں حسب سابق ایک دوسرے کیلئے اجنبی اور نامحرم ہیں ، اس لئے ان دونوں پر لازم ہے کہ فی الفور اس غیر شرعی تعلق اور مراسم کو ختم کر کے گزشتہ عمل پر توبہ واستغفار کرے، اور اگر یہ دونوں واقعی ایک دوسرے کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہتے ہوں تو دونوں خاندانوں کے بڑوں کو اعتماد میں لیکر باقاعدہ رشتہ کی بات کر کے ان کی رضامندی پہ شرعی طریقہ کار کے مطابق نکاح کرلیں، تاکہ یہ تعلق شرعاً بھی جائز اور درست ہوسکے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الد المختار: ومن ‌شرائط ‌الإيجاب ‌والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين، وإن طال كمخيرة، وأن لا يخالف الإيجاب القبول كقبلت النكاح لا المهراھ ( کتاب النکاح ،ج :3 ،ص: 14 مط :ایچ ایم سعید)
‌وفي الهندية: (ومنها) ‌أن ‌يكون ‌الإيجاب ‌والقبول ‌في ‌مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس بأن كانا حاضرين فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس لا ينعقداھ (كتاب النكاح، ج: 1، ص، 269، ط: مكتبة ماجدية)
و فی الدر المختار ایضاُ: (وشرط سماع كل من العاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما. (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)علی الأصح اھ (کتاب النکاح،ج:3،ص:21،مط:ایچ ایم سعید)
وفی الدر المختارایضاً: تزوج بشھادۃ اللہ ورسولہ لم یجز،بل قیل یکفر،واللہ اعلم الخ( کتاب النکاح،ج 3 ص 27 ط: سعید)
و فی الھندیۃ ایضاً: ومن تزوج امرأة بشهادة الله ورسوله لا يجوز النكاح، كذا في التجنيس والمزيد.الخ(الباب الأول في تفسير النكاح شرعا وصفته وركنه وشرطه وحكمه،ج:1،ص:268،مط:مکتبہ ماجدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ الف زر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93987کی تصدیق کریں
0     19
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات