السلام علیکم!میرا ایک سوال ہے کہ ایک عورت اور مرد 14 سال سے ایک ساتھ ایک ہی گھر میں رہتے ہیں، ان کے بیچ کوئی تعلق نہیں ہے، تو کیا اس عورت کی بیٹی اور اس مرد کا بیٹا اگر شادی کریں تو کیا ان کا رشتہ جائز ہوگا؟آپ سے گزارش ہے کہ جواب جلد عنایت فرمائیں۔شکریہ
واضح ہو کہ کسی عورت کا نامحرم مرد کے ساتھ بلا حجاب اور بغیر نکاح کے ایک ہی گھر میں رہنا شرعاً جائز نہیں، بلکہ گناہِ کبیرہ ہے جس سے بہرصورت احتراز لازم ہے۔ البتہ ساتھ رہنے کے باوجود ان کی اولاد کا آپس میں ایک دوسرے سے نکاح کرنا شرعاً جائز اور درست ہے۔ لیکن اس نکاح کے باوجود بھی چونکہ مذکورہ مرد و عورت ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوں گے، اس لیے ان کا شرعی پردے کا لحاظ کیے بغیر، بغیر نکاح کے ایک ساتھ رہنا جائز نہیں جس سے اجتناب لازم ہے۔ اور اگر بیٹے، بیٹی کے اس رشتے کی وجہ سے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کی بجائے مزید قربت کا قوی اندیشہ ہو تو مزید رشتہ داری بنانے سے احتراز چاہیے ۔
کما فی مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح :(وعن عمر - رضي الله عنه - عن النبي) وفي نسخة صحيحة أن النبي (صلى الله عليه وسلم قال: لا يخلون) أي البتة البتة (رجل بامرأة) أي أجنبية (إلا كان ثالثهما الشيطان) برفع الأول ونصب الثاني ويجوز العكس والاستثناء مفرغ والمعنى يكون الشيطان معهما يهيج شهوة كل منهما حتى يلقيهما في الزنا قال الطيبي - رحمه الله -: لا يخلون جواب القسم ويشهد له الاستثناء لأنه يمنعه أن يكون نهيا إذ التقدير لا يخلون رجل بامرأة كائنين على حال من الأحوال إلا على هذه الحالة وفيه تحذير عظيم في الباب. (رواه الترمذي) .اھ(باب النظر،ج:5،ص:2056،ح:3118،ط:دار الفکر)
و فی رد المحتارتحت:(قوله: وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته) قال في البحر: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها. اهـ.(فروع طلق امرأته تطليقتين ولها منه لبن فاعتدت فنكحت صغيرا فأرضعته فحرمت عليه فنكحت آخر فدخل بها ،ج:3 ،ص:32،ط:سعید)
و فی البحر: ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها. اهـ،(کتان النکاح،ج: 3،ص: 108،ط: دارالکتاب الاسلامی)
و فی البناية شرح الهداية:ومنهم جابر - رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ -، أخرج حديثه مسلم، وهو معنى حديث الكتاب، قال: قال رسول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لا يبيتن رجل عند امرأة إلا أن يكون ناكحها أو ذا محرم» .م: (والمراد إذا لم يكن محرما) ش: أي المراد من قوله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لا يخلون رجل بامرأة» إذا لم يكن الرجل محرما.اھ(فصل فی الزنا بذوات المحارم،ج:12،ص:158،دار الکتب العلمیۃ)