السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !
میرا سوال یہ ہےکہ میری خالہ مسماۃ فاطمہ نے میرے بہن بھائیوں کو دودھ پلایا تھا،اور میری والدہ نے بھی خالہ کے ایک بیٹے کو دودھ پلایا تھا،تاہم میں نے اپنی خالہ کا دودھ نہیں پیا ،اور نہ ہی خالہ کی بیٹی مسماۃ کلثوم نے میری والدہ کا دودھ پیا ہے،اس صورت حال میں کیا میرے لیے خالہ کی بیٹی مسماۃ کلثوم سے نکاح کرنا جائز ہے ؟
نوٹ : مجھے یہ فتوی اپنے خاندان کو دکھانا ہے،اس لیے براہِ کرم اسے کسی باقاعدہ مہر یا تصدیق کے ساتھ فراہم کریں،تاکہ میں اسے بطورِمستند ثبوت پیش کرسکوں ،اور کسی قسم کی غلط فہمی یا مسئلہ نہ ہو۔
واضح ہوکہ مدتِ رضاعت میں دودھ پینے کی وجہ سےصرف دودھ پینے والے/والی کا رشتہ مرضعہ اور اس کےاصول وفروع اور شوہرکے ساتھ حرام ہوتا ہے،اس کے دیگر بہن بھائیوں کا رشتہ حرام نہیں ہوتا،لہذا صورتِ مسؤلہ میں مسماۃ کلثوم نے اگر مدّتِ رضاعت میں اپنی خالہ کا دودھ نہ پیا ہو،او ر نہ ہی سائل نےاپنی خالہ مسماۃ فاطمہ کا دودھ پیا ہو،تو ایسی صورت میں سائل کا نکاح مسماۃ کلثوم کے ساتھ کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہوگا، بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ پائی جارہی ہو۔
کما فی الدر المختار:(وتحل أخت أخيه رضاعا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما وهو ظاهر (و) كذا (نسبا) بأن يكون لأخيه لأبيه أخت لأم، فهو متصل بهما لا بأحدهما للزوم التكرار كما لا يخفى اھ (3/3-4 )۔
وفی المبسوط للإمام السرخسي: ولو أن امرأتين لإحداهما بنون وللأخرى بنات فأرضعت التي لها البنات ابنا من بني الأخرى، فإنما تحرم بناتها على ذلك الابن بعينه؛ لأنه صار أخا لهن من الرضاعة، ولا يحرم أحد من بناتها على سائر بني المرأة الأخرى؛ لأنه لم يوجد بينهم الأخوة من الرضاعة حيث لم يجتمعوا على ثدي واحد، ولو كانت المرأة التي لها البنون أرضعت إحدى بنات الأخرى حرمت تلك الابنة على بني المرضعة وغيرها من بناتها يحل على المرضعة، ولو كانت أم البنات أرضعت أحد البنين وأم البنين أرضعت إحدى البنات لم يكن للابن المرتضع من أم البنات أن يتزوج واحدة منهن وكان لإخوته أن يتزوجوا بنات الأخرى إلا الابنة التي أرضعتها أمهم وحدها؛ لأنها أختهم من الرضاعة اھ(30 /301)۔