نکاح

نشئی اور نافرمان بیٹے کی شاد ی کرنی چاہیئے یا نہیں؟

فتوی نمبر :
94171
| تاریخ :
2026-04-14
معاملات / احکام نکاح / نکاح

نشئی اور نافرمان بیٹے کی شاد ی کرنی چاہیئے یا نہیں؟

اسلام وعلیکم
یہ سوال میری والدہ بنام روشن آرا کی طرف سے ہے۔ بیوہ ہوں۔
(میرے 6 بچے ہیں دو بیٹے4 بیٹیاں ) 5 کی شادی ہو چکی ہے ۔ ایک بیٹے کی شادی ابھی تک نہیں ہوئی ہے۔جس کی عمر 48 ہے۔نام ذیشان احمد ہے۔
یہ بیٹا کم عمری سے نشے میں پڑ گیا تھا ۔ اس کو علاج کے لیے کئی مرتبہ
بھیجا گیا۔ نشہ ، چوری ، غیر اخلاقی سرگرمیاں اور میری اور اللہ کی نافرمانی میں رہا۔
اب اس بار علاج کروانے کے بعد اسے مال ڈال کے دیا سپلائی کرنے کے لیے۔ اب اپنی مرضی سے جاتا ہے ورنہ سوتا رہتا ہے۔ پتا نہیں کہ اب بھی نشہ کرتا ہے کہ نہیں۔
سوال یہ ہے کہ، کیا مجھے اس کی شادی کرنی چاہئے کہ نہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ کسی کی بیٹی کی زندگی نہ برباد ہو جائے۔ اور میں گناہ گار ہو جاؤں گی ۔ میری رہنمائی کریں کہ مجھے کیا فیصلہ لینا چاہیے۔
میں 35 کی عمر میں بیوہ ہوئی اب میں 72 کی ہوں اور بیمار رہتی ہوں ۔ ایک بیٹی کے گھر میں اور بیٹا رہتے ہیں۔اپنا گھر کرایا پہ دیا ہے اسی سے گزر بسر ہو جاتی ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر علاج ومعالجہ کے بعد مذکورہ بیٹے نے نشہ اور دیگر سابقہ برائیاں چھوڑ دی ہوں، اس کی اصلاح واضح طور پر ظاہر ہو چکی ہو، وہ حلال روزگار اختیار کیے ہوئے ہو اور بیوی کے شرعی حقوق ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو اس کی شادی کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔ البتہ اگر اس کی اصلاح واضح نہ ہوئی ہو یا اس کے طرزِ عمل کی وجہ سے یہ اطمینان نہ ہو کہ وہ بیوی کے حقوق اور ذمہ داریاں صحیح طور پر نبھا سکے گا، تو ایسی صورت میں اس کی شادی کا انتظام کرنا مناسب نہیں۔ لہٰذا بیٹے کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیکر اس کی شادی کرانے یا نہ کرانے کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن ابن ماجة ـ محقق ومشكول: 2340- حدثنا عبد ربه بن خالد النميري أبو المغلس ، حدثنا فضيل بن سليمان ، حدثنا موسى بن عقبة ، حدثنا إسحاق بن يحيى بن الوليد ، عن عبادة بن الصامت ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى أن لا ضرر ولا ضرار. (3/ 430)
وفی مختصر القدوري: والكفاءة في النكاح معتبرة فإذا تزوجت المرأة غير كفء فللأولياء أن يفرقوا بينهما، والكفاءة تعتبر في النسب والدين والمال وهو: أن يكون مالكا للمهر والنفقة وتعتبر في الصنائع. (ص: 146)
وفی الهداية في شرح بداية المبتدي: الكفاءة في النكاح معتبرة، قال عليه الصلاة والسلام " ألا لا يزوج النساء إلا الأولياء ولا يزوجن إلا من الأكفاء " ولأن انتظام المصالح بين المتكافئين عادة لأن الشريفة تأبى أن تكون مستفرشة للخسيس فلا بد من اعتبارها بخلاف جانبها لأن الزوج مستفرش فلا تغيظه دناءة الفراش، وإذا زوجت المرأة نفسها من غير كفء فللأولياء أن يفرقوا بينهما دفعا لضرر العار عن أنفسهم. (1/ 195)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94171کی تصدیق کریں
0     22
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات