كيا فرماتے ہىں علماء كرام مندرجہ ذيل مسئلہ مىں كہ مسمى الف نے مدت رضاعت مىں اپنى دادى كا دودھ پيا ہے، اب معلوم كرنا ہے كہ مسمى الف كا نكاح اپنے چچازاد، پھوپھى زاد بيٹىوں مىں سے كسى سے جائز ہے كہ نہىں ؟
واضح ہوکہ اگر واقعۃًمسمّیٰ الف نے مدتِ رضاعت (یعنی دوسال )کے اندر اپنی دادى کا دودھ پیا ہے، تو شرعاً دادى اس کی رضاعی ماں اور دادى کی اولاد (یعنی چچا اور پھوپھی) اس کے رضاعی بہن بھائی بن چکےہیں، جس طرح حقيقي بھتىجى اور بھانجى سے نكاح شرعاً جائز نہىں ، اسى طرح رضاعى بھتىجى اور بھانجى سے بھى نكاح شرعاً جائز نہىں، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مسمّیٰ الف کے لیے اپنی چچازاد اور پھوپھی زاد بیٹیوں سے نکاح شرعاً جائز نہیں ہے۔جس سے احترازلازم ہے۔
كما في الدر المختار: (و) حرم (الكل) مما مر تحريمه نسبا، ومصاهرة (رضاعا) إلخ
وفي رد المحتار: (قوله: نسبا) تمييز عن نسبة تحريم للضمير المضاف إليه، وكذا قوله: مصاهرة، وقوله: رضاعا تمييز عن نسبة تحريم إلى الكل، يعني يحرم من الرضاع أصوله وفروعه وفروع أبويه وفروعهم، وكذا فروع أجداده وجداته الصلبيون، وفروع زوجته وأصولها وفروع زوجها وأصوله وحلائل أصوله وفروعه.اهـ (كتاب النكاح، فصل في المحرمات، ج: 3، ص: 31، ط: إيج إيم سعيد)