نکاح

ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
94201
| تاریخ :
2026-04-15
معاملات / احکام نکاح / نکاح

ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنے کا حکم

السلام علیکم ! میری عمر 27 سال ہےمیں ایک بیوہ عورت سے شادی کرنا چاہتا ہوں اس عورت کے والد والدہ فوت ہو گئے ہیں اور اسکا ایک بھائی ہے جو ہماری شادی کیلئے نہیں مان رہا ، کیا ہم اسکے بھائی کو بتائے بغیر 4 گوا ہوں کے موجودگی میں اسلامی طریقے سے نکاح کرسکتے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

عند الاحناف عاقلہ بالغہ لڑکی اگر چہ اپنی مرضی سے نکاح کرسکتی ہے لیکن کسی کے ساتھ نکاح کرنا میاں بیوی کا ایک دوسرے کے ساتھ زندگی بھر ساتھ دینے کا عقد ہے جس کے ساتھ میاں بیوی کے علاوہ دیگر رشتہ داروں کا بھی کسی نہ کسی درجہ میں تعلق رہتا ہے اور ان کی ضرورت بھی پڑتی ہے اس لیے سائل اور مذکور بیوہ عورت کا دونوں خاندانوں کے بڑوں کو اعتماد میں لیے بغیر اس طرح کا نکاح کرنا قطعاً مناسب نہیں، بلکہ اس طرح نکاح بعد میں کئی پیچیدگیوں اور پریشانیوں کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے دونوں کو چاہئے کہ حتی الامکان دونوں طرف کے خاندان کے بڑوں کو راضی کر کے ان کو اعتماد میں لیکر نکاح کرنے کا اہتمام کریں تاکہ یہ رشتہ مضبوط اور پائیدار ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدر المختار:فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا الخ(باب الولی،ج:3،ص:55/56،مط:ایچ ایم سعید)
وفیہ ایضاً: ويفتى) في غير الكفءبعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى (لفساد الزمان) الخ(باب الولی،ج:3،ص: 56/67،مط:ایچ ایم سعید)
وفی تبیین الحقائق:قال رحمه الله (نفذ نكاح حرة مكلفة بلا ولي)، وهذا عند أبي حنيفة وأبي يوسف في ظاهر الرواية وكان أبو يوسف أولا يقول إنه لا ينعقد إلا بولي إذا كان لها ولي، ثم رجع وقال: إن كان الزوج كفئا لها جاز وإلا فلا، ثم رجع وقال: جاز سواء كان الزوج كفئا أو لم يكن، وعند محمد ينعقد موقوفا على إجازة الولي سواء كان الزوج كفئا لها أو لم يكن، ويروى رجوعه إلى قولهما الخ(باب الاولیاء و الاکفاء،ج:2،ص:177،مط: : المطبعة الكبرى الأميرية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ الف زر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94201کی تصدیق کریں
0     24
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات