نکاح

نکاح فاسد میں لڑکی کا الفاظ فسخ کہنے سے نکاح ختم ہونے کا حکم

فتوی نمبر :
94328
| تاریخ :
2026-04-18
معاملات / احکام نکاح / نکاح

نکاح فاسد میں لڑکی کا الفاظ فسخ کہنے سے نکاح ختم ہونے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک لڑکی کا کسی لڑکے کے ساتھ تعلق تھا، پھر وہ لڑکا اس لڑکی کو لے گیا اور اس کے ساتھ نکاح کرلیا، حالانکہ وہ لڑکا اس لڑکی کا کفو بھی نہیں ہے۔ بعد ازاں لڑکی کے گھر والے لڑکی کو تلاش کرکے واپس لے آئے، اور لڑکی کے گھر والوں نے لڑکے والوں سے کہا کہ باقاعدہ سب کے سامنے نکاح کرلو، مگر وہ اس پر بھی آمادہ نہیں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا غیر کفو میں لڑکی کا اپنی مرضی سے کیا ہوا نکاح شرعاً منعقد ہوا یا نہیں؟ اور کیا اس لڑکی کا نکاح کسی دوسرے مقام پر کیا جاسکتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ والدین کے علم میں لائے بغیراپنی مرضی سے کسی کے ساتھ نکاح کرنا شرعاً عرفا ًاور اخلاقا ًدرست نہیں، بلکہ شریف خاندان میں اسطرح کا نکاح معیوب سمجھا جاتا ہے اور بڑوں کی سرپرستی اور دعاؤں سے خالی ہونے کی وجہ سے پائیدار بھی نہیں ہوتا، نیز اگر یہ نکاح غیر کفو میں ہو تو متاخرین فقہاء کرام کے ہاں راجح قول کے مطابق سرے سے منعقد ہی نہیں ہوگا،لہذا صورت مسئولہ میں بیان کردہ صورت حال اگر واقعۃ ً مبنی بر حقیقت ہو اس طور پر کہ لڑکا و لڑکی باہم ہم کفو نہ ہو، تو لڑکی کا ولی کی اجازت کے بغیر اپنی مرضی سے یغیر کفو میں کیا ہوا یہ نکاح شرعاًدرست نہیں اور اس نکاح کے نتیجہ میں اگر ان دونوں کے درمیان زوجیت کا تعلق بھی قائم ہوچکا ہو، توایسی صورت میں لڑکی کو چاہیے کہ وہ الفاظ فسخ مثلاً"میں یہ نکاح فسخ کرتی ہوں " کے الفاظ کہہ دے، اس سے وہ مذکور لڑکے کے عقد سے نکل جائے گی ، اس الفاظ کے کہنے کے بعد سے لڑکی پر عدت (تین ماہواری) گزارنا لازم ہے ، جس کے بعد لڑکی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في البدائع : وأما الثاني فالنكاح الذي الكفاءة فيه شرط لزومه هو إنكاح المرأة نفسها من غير رضا الأولياء لا يلزم، حتى لو زوجت نفسها من غير كفء من غير رضا الأولياء لا يلزم.اھ(فصل : إنكاح المرأة نفسها من غير رضا الأولياء، ج: ٢،ص: ٣١٧، مط: سعيد)
وفي الدر المختار: (وله) أي للولي (إذا كان عصبة) ولو غير محرم كابن عم في الأصح خانية، وخرج ذوو الأرحام والأم والقاضي (الاعتراض في غير الكفء) فيفسخه القاضي ويتجدد بتجدد النكاح (ما لم) يسكت حتى (تلد منه) لئلا يضيع الولد وينبغي إلحاق الحبل الظاهر به (‌ويفتى) ‌في ‌غير الكفء (بعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى (لفساد الزمان).اه(باب الولي، ج: ٣، ص: ٥٧، مط: سعيد)
وفي رد المحتار: قالوا معناه معتبرة في اللزوم على الأولياء حتى أن عند عدمها جاز للولي الفسخ. اهـ. فتح وهذا بناء على ظاهر الرواية من أن العقد صحيح، وللولي الاعتراض، أما على رواية الحسن المختارة للفتوى من أنه لا يصح.(باب الكفاءة، ج: ٣، ص: ٨٤، مط: سعيد)
وفي الدر المختار: و) يثبت (لكل واحد منهما فسخه ولو بغير محضر عن صاحبه دخل بها أو لا) في الأصح خروجا عن المعصية. فلا ينافي وجوبه بل يجب على القاضي التفريق بينهما (وتجب العدة بعد الوطء) لا الخلوة للطلاق لا للموت (من وقت التفريق) أو متاركة الزوج وإن لم تعلم المرأة بالمتاركة في الأصح.
وفي رد المحتار: أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا.
وفيه أيضاً : قوله في الأصح) وقيل بعد الدخول ليس لأحدهما فسخه إلا بحضرة الآخر كما في النهر وغيره.
وفي رد المحتار: (قوله أو متاركة الزوج) في البزازية: المتاركة في الفاسد بعد الدخول لا تكون إلا بالقول كخليت سبيلك أو تركتك ومجرد إنكار النكاح لا يكون متاركة. أما لو أنكر وقال أيضا اذهبي وتزوجي كان متاركة والطلاق فيه متاركة لكن لا ينقص به عدد الطلاق، وعدم مجيء أحدهما إلى آخر بعد الدخول ليس متاركة لأنها لا تحصل إلا بالقول.(الى قوله) ورده الخير الرملي بأن الطلاق لا يتحقق في الفاسد فكيف يقال إن المتاركة في معنى الطلاق، فالحق عدم الفرق، ولذا جزم به المقدسي في شرح نظم الكنز إلخ، وتمامه فيما علقناه على البحر وسيأتي قبيل باب الطلاق قبل الدخول عن الجوهرة طلق المنكوحة فاسدا ثلاثا له تزوجها بلا محلل، قال ولم يحك خلافا فهذا أيضا مؤيد لكون الطلاق لا يتحقق في الفاسد ولذا كان غير منقص للعدد بل هو متاركة كما علمت، حتى لو طلقها واحدة ثم تزوجها صحيحا عادت إليه بثلاث طلقات،اھ (مطلب في النكاح الفاسد، ج: ٣، ص: ١٣٤،١٣٣.١٣٢، مط: سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اظہر امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94328کی تصدیق کریں
0     134
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات