میری بیٹی کا نکاح بچپن میں جب وہ دو سال کی تھی تو اس کی دادی نے بہت سے لوگوں کے سامنے اپنے پوتے سے کر لیا۔ پوتے کی عمر بھی نکاح کے وقت تقریباً ایک سال تھی۔ دادی نے لڑکی کے باپ سے اجازت نہیں لی تھی اور نہ ہی باپ کو کوئی اعتراض تھا، نکاح کے وقت لوگوں میں باپ بھی موجود تھا۔ باپ کے سامنے بیٹی کا نکاح دادی نے اپنے پوتے کے ساتھ کیا تھا۔ اب لڑکا اور لڑکی بالغ ہیں۔ لڑکا اب لڑکی سے شادی کر کے اپنے گھر نہیں لانا چاہتا اور نہ ہی لڑکی کو اپنی بیوی کے طور پر قبول کر رہا ہے اور نہ ہی لڑکی کو طلاق دے رہا ہے۔ لڑکی کی زندگی خراب ہو رہی ہے اور وہ اس نکاح کی وجہ سے کہیں اور شادی بھی نہیں کر پا رہی ہے۔ اب اسلامی رو سے لڑکی کے لیے کیا حکم ہے؟ کیا یہ نکاح ہوا ہے یا نہیں اور کیا وہ کہیں اور شادی کر سکتی ہے؟
صورتِ مسئولہ میں دادی نے مذکور پوتے اور پوتی کا نکاح بچپن میں اگر دونوں کے باپ کی موجودگی میں ان کی صریح اجازت اور رضامندی سے کیا ہوا، یا دونوں کی موجودگی میں نکاح کے بعد انہوں نے دلالۃً رضامندی کا اظہار کیا ہو، مثلاً کسی نے انہیں مبارکباد دی تو انہوں نے مبارکبادی قبول کی ہو تو ایسی صورت میں سائلہ کی بیٹی کا نکاح منعقد ہو چکا ہے۔ اب لڑکے کی طرف سے بغیر طلاق یا خلع کے سائلہ کی بیٹی کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد نہیں ۔ تاہم اگر لڑکا سائلہ کی بیٹی کو بطورِ بیوی قبول نہیں کرے اور نہ ہی رخصتی کے ذریعے اپنے گھر لے جانے کے لئے تیار ہےتو اس پر لازم ہے کہ وہ لڑکی کو طلاق دے۔ بصورتِ دیگر لڑکی عدمِ ادائیگیِ حقوق کی بنیاد پر شوہر کے خلاف فسخ ِنکاح کا کیس کر کے خلاصی حاصل کر سکتی ہے جس کے تفصیلی طریقہ کار کے لئے بوقتِ ضرورت کسی بھی مستند دارالافتاء سے دوبارہ رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
کما فی الهندية:وإن زوج الصغير أو الصغيرة أبعد الأولياء فإن كان الأقرب حاضرا وهو من أهل الولاية توقف نكاح الأبعد على إجازته، وإن لم يكن من أهل الولاية بأن كان صغيرا أو كان كبيرا مجنونا جاز، وإن كان الأقرب غائبا غيبة منقطعة؛ جاز نكاح الأبعد، كذا في المحيط،اھ(الباب الرابع في الأولياء في النكاح،ج:1،ص:285،ط:ماجدیۃ)
وفی الدرالمختار تحت:(قوله توقف على إجازته) تقدم أن البالغة لو زوجت نفسها غير كفء، فللولي الاعتراض ما لم يرض صريحا أو دلالة كقبض المهر ونحوه، فلم يجعلوا سكوته إجازة والظاهر أن سكوته هنا كذلك فلا يكون سكوته إجازة لنكاح الأبعد وإن كان حاضرا في مجلس العقد ما لم يرض صريحا أو دلالة تأمل.اهـ(فروع ليس للقاضي تزويج الصغيرة من نفسه ولا ممن لا تقبل شهادته،ج:3،ص:81،ط:سعید)
و فی النهر الفائق شرح كنز الدقائ :(ولو زوج) الأب أو الجد (طفله) أي: ولده الصغير ذكرا كان أو أنثى (غير كفؤ) بأن زوج الذكر أمة أو الأنثى عبدا أو زوجه بغبن فاحش بأن نقص من مهرها أو زاد في مهره صح النكاح عند الإمام ولزم الصغير سواء كان موسرا أو معسرا والأصح عندهما أنه لا يصح لأن الولاية مقيدة بشرط النظر فعند فواته يبطل العقد.اھ(فصل في الكفاءة ،ج:2 ،ص:224 ،ط: دار الکتب العلمیۃ)